امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں بھارت کے سفارتخانے کی جانب سے پہلگام واقعے کی برسی کے موقع پر “دہشت گردی کی انسانی قیمت” کے عنوان سے ایک خفیہ تقریب منعقد کی گئی، جس نے سفارتی اور میڈیا حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ تقریب کیپیٹل ہل میں سخت سکیورٹی کے حصار میں منعقد ہوئی، جہاں محدود تعداد میں مہمانوں کو مدعو کیا گیا۔ تقریب میں بعض امریکی قانون سازوں، بھارتی نژاد شخصیات اور پالیسی ماہرین نے شرکت کی، تاہم بین الاقوامی میڈیا کو رسائی نہ دینے پر شفافیت کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تقریب کی کوریج زیادہ تر بھارتی سفارتخانے کے ذرائع اور منتخب صحافیوں تک محدود رہی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی محدود رسائی تقریبات سفارتی بیانیے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا سکتی ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ پہلگام میں اپنے انٹیلی جنس نظام کی ناکامی کے بعد بھارت اپنی نااہلی کو عالمی سفارت کاری کے لبادے میں چھپانے کیلئے کپیٹل ہل پر ایسی ڈرامائی تقریبات منعقد کرنے پر مجبور ہے۔ امریکی کانگریس کے مخصوص ارکان کی شرکت بھارتی ایجنٹوں کے اس نیٹ ورک کو بے نقاب کرتی ہے جو نئی دہلی کے ایک اشارے پر پاکستان مخالف اسکرپٹ پڑھنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
دوسری جانب مبصرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ پہلگام واقعے سے متعلق مختلف بیانیے موجود ہیں، اور ایسے مواقع پر کھلے مباحثے اور آزاد میڈیا رسائی کو ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ حقائق کی مکمل تصویر سامنے آ سکے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات پہلے ہی حساس مرحلے سے گزر رہے ہیں، اور کسی بھی قسم کے بیانات یا سرگرمیاں علاقائی ماحول پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
