سعودی عرب میں ایک سعودی خاتون ڈاکٹر نے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک جدید طبی نظام تیار کیا ہے جو آنکھوں کے پچھلے حصے یعنی فنڈس کی تصاویر کا چند سیکنڈز میں تجزیہ کر کے ریٹینا کی بیماریوں کی تشخیص اور بینائی متاثر کرنے والے خطرات کی پیشگوئی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ اختراع ڈاکٹر Silvi Al-Haza’a نے تیار کی ہے، جسے “SAARIA” کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نظام خاص طور پر ذیابیطس سے ہونے والی ریٹینوپیتھی سمیت آنکھوں کی متعدد دائمی بیماریوں کی بروقت شناخت کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر کے مطابق یہ جدید سسٹم صرف تشخیص تک محدود نہیں بلکہ یہ بیماریوں کے مستقبل میں خطرات کی پیشگوئی بھی کر سکتا ہے۔ آنکھ کی باریک خون کی نالیوں اور عصبی ساخت کے تجزیے کے ذریعے یہ دل کی بیماریوں، بلند فشارِ خون اور بعض اعصابی امراض جیسے ڈیمینشیا کے امکانات کا بھی اندازہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ نظام جدید مصنوعی ذہانت کے الگورتھمز پر مبنی ہے جو نہ صرف واضح طبی علامات کو پہچانتا ہے بلکہ ایسے باریک اور پوشیدہ پیٹرنز بھی سامنے لاتا ہے جو عام کلینیکل معائنے میں نظر نہیں آتے۔ اس کے نتیجے میں معالجین کو فوری اور زیادہ درست تشخیصی رپورٹ حاصل ہوتی ہے۔
ڈاکٹر سلوی الہزاع نے بتایا کہ اس منصوبے کی بنیادی وجہ ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے مریض اور ریٹینا کے ماہرین کی کمی ہے، خاص طور پر دور دراز علاقوں میں جہاں فوری تشخیص ممکن نہیں ہوتی۔ یہ نظام بنیادی صحت مراکز اور موبائل کلینکس میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق “SAARIA” نظام صحت کے شعبے میں ایک اہم تبدیلی لا سکتا ہے، کیونکہ یہ نہ صرف پیچیدہ علاج کے اخراجات کم کرے گا بلکہ غیر ضروری ریفرلز میں بھی کمی لائے گا اور بڑے پیمانے پر اسکریننگ کو ممکن بنائے گا۔
حج جیسے بڑے اجتماع میں اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات بھی بتائے گئے ہیں، جہاں لاکھوں افراد کی فوری اسکریننگ اور ممکنہ پیچیدگیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ اس سے طبی ٹیموں کو دباؤ والے ماحول میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی۔
ڈاکٹر الہزاع نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ نظام مستقبل قریب میں عملی طور پر استعمال ہونا شروع ہو سکتا ہے، خصوصاً 2027 کے حج سیزن میں اس کی آزمائشی تعیناتی کا ہدف رکھا گیا ہے۔
