قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے طلال چودھری نے کہا کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات مکمل طور پر بہتر ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط روابط موجود ہیں، اس ماہ پاکستان آنے والی ترسیلاتِ زر میں سب سے زیادہ حصہ سعودی عرب جبکہ دوسرے نمبر پر متحدہ عرب امارات کا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں 17 لاکھ سے زائد پاکستانی قانونی طور پر مقیم ہیں، جو نہ صرف یو اے ای بلکہ پاکستان اور اپنے خاندانوں کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہے ہیں، ملکوں کے بارے میں جلد بازی میں نتائج اخذ نہیں کرنے چاہئیں کیونکہ اس سے مستقبل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔
طلال چودھری نے کہا کہ اگر کسی پاکستانی کو کوئی شکایت ہوگی تو حکومت اس کا مکمل نوٹس لے گی، حکومت ہر پاکستانی کو بلاامتیاز تحفظ فراہم کرتی ہے، چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے یا رنگ سے ہو۔
دہشتگردی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ وفاق اور صوبے مل کر لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف تقاریر کے بجائے کارکردگی کا جائزہ بھی لینا چاہیے۔
انہوں نے قومی ایکشن پلان پر ایوان میں تفصیلی بحث کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ دیکھا جائے کس صوبے اور ادارے نے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے کیا کردار ادا کیا، کہاں عملدرآمد ہوا اور کہاں نہیں ہوا، اگر کسی صوبے میں دہشت گردی بڑھی ہے تو اس کی وجوہات پر بھی بات ہونی چاہئے۔
