قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے فنانشل انسٹیٹیوشن ترمیمی بل دوہزار چھبیس منظور کرلیا، بینک ڈیفالٹرز کو نوے دن میں تین نوٹس جاری ہوں گے جبکہ عدم ادائیگی پر بینک پراپرٹی قبضے میں لے سکیں گے۔
بل کے مطابق قرض کی عدم ادائیگی کی صورت میں بینک متعلقہ پراپرٹی پر قبضہ حاصل کرسکے گا۔بل میں ہاؤس فنانسنگ کے تحت حاصل کی گئی پراپرٹی کو کرایہ پر دینے یا کسی تیسرے فریق کے حوالے کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
کمیٹی اجلاس میں اراکین نے بعض شقوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بل میں بینکوں کو زیادہ تحفظ دیا گیا ہے جبکہ صارفین کے حقوق محدود دکھائی دیتے ہیں۔
وزارت قانون حکام نے بتایا کہ ڈیفالٹر کو ادائیگی کیلئے مہلت دی جائے گی اور اگر قرض لینے والا رقم کا بندوبست کرلے تو بینک کو تیس دن کے اندر درخواست دے سکے گا۔
وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے کہا کہ پراپرٹی پر قبضے کیلئے بینک حکومت کو درخواست دے گا جبکہ متعلقہ حکام قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔
