عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) نےایف بی آر کی کارکردگی پرعدم اطمینان کا اظہارکرتے ہوئے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال میں ایف بی آرکو ٹیکس ریونیو میں بھاری شارٹ فال کا سامنا ہے،چھ ماہ میں ٹیکس خسارہ 336 ارب روپےرہا جبکہ دس ماہ کے دوران یہ بڑھ کر 684 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
آئی ایم ایف کاکہنا ہےکہ ٹیکس ہدف میں کمی اس بات کاثبوت ہےکہ پاکستان میں ٹیکس دینےوالوں کی تعداد انتہائی کم ہے،اسی لیےزیادہ کاروبار اور ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ناگزیر ہوچکا ہے۔
ذرائع کےمطابق آئی ایم ایف نےدکانداروں اورریٹیلرزکی ٹیکس رجسٹریشن بڑھانے پرزوردیتےہوئےکہا ہے ذیادہ کاروبار ٹیکس نیٹ میں لانےکی ضرورت ہے،بڑا مالی لین دین صرف انہی افراد کو کرنے کی اجازت ہونی چاہیے جو انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہوں،پاور، آئل اور گیس سیکٹر سے ٹیکس وصولی ہدف سے کم رہی۔
دستاویزات کےمطابق پاور،آئل اور گیس سیکٹر سے ٹیکس وصولی بھی مقررہ ہدف سےکم رہی،جبکہ ٹیکس چوری روکنے کے لیے نیاسسٹم،ڈیجیٹل انوائسنگ اور فیکٹری پیداوار کی نگرانی سے متعلق اقدامات کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
ایف بی آر نےدعویٰ کیا ہےکہ اگست 2026 تک نیا آڈٹ نظام لایا جائے گا،تاکہ ٹیکس دہندگان کا یکساں اور شفاف احتساب ممکن بنایا جاسکے۔
رپورٹ میں کہاگیا ہےکہ ان اصلاحاتی اقدامات سےاضافی آمدن کا فائدہ آئندہ مالی سال میں متوقع ہے،تاہم اس وقت زیادہ توجہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر مرکوز ہے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے بعض ارکان نے ایف بی آر کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے کاروبار اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔
