اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کو تحلیل کرنے اور ممکنہ قبل از وقت انتخابات کی راہ ہموار کرنے کے لیے پیش کیا گیا بل ابتدائی ووٹنگ میں بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا ہے، تاہم انتخابات کی حتمی تاریخ ابھی طے نہیں کی گئی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق قانون سازوں نے بل کے ابتدائی مرحلے میں 110 کے مقابلے میں 0 ووٹ سے حمایت کی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان وسیع اتفاق پایا جاتا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب حکومتی اتحاد الٹرا آرتھوڈوکس یشیوا طلبہ کی فوجی بھرتی سے استثنیٰ کے قانون پر اتفاق نہ کر سکا، جو موجودہ سیاسی بحران کی بنیادی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بینجمن نیتن یاہو ووٹنگ میں شریک نہیں ہوئے اور مبینہ طور پر سیکیورٹی امور پر مشاورت میں مصروف تھے۔
ووٹنگ کے بعد اتحادی جماعتوں کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ موجودہ پارلیمانی دور میں نو بجٹ اور 520 قوانین منظور کیے گئے ہیں، تاہم فوجی بھرتی کے مسئلے پر اختلاف برقرار ہے۔
بل کے متن کے مطابق تحلیل کے بعد انتخابات کی کوئی واضح تاریخ مقرر نہیں کی گئی، بلکہ یہ شرط رکھی گئی ہے کہ حتمی منظوری کے بعد تین ماہ کے اندر انتخابات کی تاریخ طے کی جائے گی۔
قانون کے تحت انتخابات ہر صورت میں 27 اکتوبر سے قبل یا اس دن تک منعقد کرنا لازم ہوں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر بل مکمل طور پر منظور ہو جاتا ہے تو اسرائیل میں سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو سکتا ہے اور ممکنہ طور پر جلد عام انتخابات کا انعقاد متوقع ہے۔
