امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مشرقِ وسطیٰ کے اہم رہنماؤں کے درمیان ایران جنگ کے خاتمے سے متعلق ہونے والی رابطہ کاری کو “انتہائی مثبت” قرار دیا گیا ہے جبکہ ایران اور پاکستان کی جانب سے امریکا کو جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق نظرِ ثانی شدہ تجویز بھی ارسال کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک سفارت کار نے امریکی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ صدر ٹرمپ کی علاقائی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی گفتگو نہایت مثبت رہی اور مذاکرات میں اہم پیشرفت دیکھنے میں آئی۔
سفارت کار کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک کے رہنما اس سفارتی پیشرفت اور صدر ٹرمپ کی بات چیت کے عمل کی حمایت کر رہے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ زیرِ غور معاہدہ ایک ایسے فریم ورک پر مشتمل ہے جس کے تحت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی عمل شروع کیا جائے گا۔
ادھر خبر رساں ادارے کے مطابق مذاکرات سے واقف دو پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور پاکستان نے امریکا کو جنگ بندی، کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک جامع نظرِ ثانی شدہ تجویز بھجوائی ہے۔
ایک پاکستانی اہلکار کے مطابق یہ مجوزہ معاہدہ “کافی جامع” نوعیت کا ہے جبکہ امریکا کی جانب سے اس پر ردعمل کل تک متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان گزشتہ دو ماہ سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ حالیہ دنوں میں تہران، دوحہ اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔
اسی سلسلے میں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی تہران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور مذاکراتی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف سے اہم ملاقاتیں کیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی عندیہ دیا ہے کہ مذاکرات میں کچھ پیشرفت ضرور ہوئی ہے تاہم ابھی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اس علاقائی رابطہ کاری میں شامل نہیں تھے تاہم ان کی صدر ٹرمپ سے جلد گفتگو متوقع ہے۔
