NATO کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اہم اجلاس خطے کی سیکیورٹی صورتحال، آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور ایران سے متعلق پالیسی معاملات پر تفصیلی مشاورت کے بعد اختتام پذیر ہوگیا۔
اجلاس میں آئندہ انقرہ سمٹ سے قبل فوجی اتحاد کے بنیادی دفاعی اور سیکیورٹی اہداف کو حتمی شکل دی گئی، جبکہ رکن ممالک نے دفاعی صنعتی صلاحیتوں میں اضافے، مشترکہ دفاعی حکمت عملی اور عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران ایران سے متعلق پالیسی پر امریکا اور بعض یورپی اتحادی ممالک کے درمیان اختلافات بھی سامنے آئے۔ خاص طور پر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، ممکنہ جنگی صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی بے چینی کے حوالے سے مختلف ممالک نے الگ الگ مؤقف اختیار کیا۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کی بندش کے ذریعے عالمی معیشت کو دباؤ میں لانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے اور عالمی برادری کو اس معاملے پر متحد رہنا ہوگا۔
اجلاس کے اختتام پر نیٹو رکن ممالک نے خطے میں استحکام، توانائی کے عالمی راستوں کے تحفظ اور مشترکہ دفاعی تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
