پاکستان فلم انڈسٹری کے نامور مزاحیہ اداکار، ہدایت کار، گلوکار اور پروڈیوسر رنگیلا کی 22 ویں برسی آج 24 مئی کو عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جائے گئی۔
رنگیلا، جن کا اصل نام سعید خان تھا، یکم جنوری 1937 کو افغانستان میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں والدین کے انتقال کے بعد وہ اپنی بہن کے ہمراہ پشاور منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ ابتدا میں انہوں نے باڈی بلڈنگ کی، فلمی بورڈز بنائے اور بعد ازاں اسٹیج اور فلمی دنیا کا رخ کیا۔
انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز 1958 میں فلم “جٹّی” سے کیا اور اپنی منفرد مزاحیہ اداکاری کے باعث جلد ہی فلم بینوں کے دل جیت لیے۔ 1969 میں ریلیز ہونے والی فلم “دیا اور طوفان” نے انہیں مزید شہرت بخشی، جہاں انہوں نے نہ صرف اداکاری بلکہ بطور مصنف، گلوکار، ہدایت کار اور پروڈیوسر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
رنگیلا پروڈکشن کے بینر تلے انہوں نے متعدد کامیاب فلمیں بنائیں۔ ان کی مشہور فلموں میں “دل اور دنیا”، “کبڑا عاشق”، “عورت راج”، “پردے میں رہنے دو”، “ایماندار”، “بے ایمان”، “انسان اور گدھا” اور “دو رنگیلے” شامل ہیں۔
منور ظریف کے ساتھ ان کی جوڑی کو پاکستانی فلمی تاریخ کی مقبول ترین مزاحیہ جوڑیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ رنگیلا نے اپنے منفرد انداز اور خداداد صلاحیتوں کے بل بوتے پر کامیڈین سے مرکزی ہیرو تک کا سفر طے کیا۔
انہوں نے اپنے دور کی تقریباً تمام معروف ہیروئنوں کے مقابل مرکزی کردار ادا کیے اور بہترین فنی خدمات پر 9 مرتبہ نگار ایوارڈ حاصل کیے۔
1991 میں جگر اور گردے کے عارضے کے باعث انہوں نے فلمی دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ بعد ازاں 24 مئی 2005 کو وہ انتقال کر گئے، تاہم ان کی فنی خدمات اور لازوال کردار آج بھی شائقینِ فلم کے دلوں میں زندہ ہیں۔
