وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمت اور معاہدے کے حوالے سے منعقد ہونے والے اہم اجلاس میں شرکت کی، تاہم دو گھنٹے طویل مشاورت کے باوجود کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز” کے مطابق وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں ہونے والے اجلاس میں ایران سے متعلق مختلف تجاویز اور معاہدے کے نکات پر تفصیلی غور کیا گیا، لیکن متعدد اہم معاملات تاحال حل طلب ہیں، جن میں ایران کے منجمد مالی اثاثے، جوہری سرگرمیاں اور آبنائے ہرمز کی صورتحال شامل ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے عہدیدار کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے اجلاس کے اختتام پر کسی حتمی معاہدے یا پالیسی فیصلے کی منظوری نہیں دی کیونکہ کئی امور پر مزید مشاورت اور وضاحت درکار ہے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر اعلان کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ ممکنہ مفاہمت کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کے لیے سچویشن روم میں اہم اجلاس کی صدارت کریں گے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں زور دیا تھا کہ ایران کو اس بات کی ضمانت دینا ہوگی کہ وہ کبھی بھی جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر دونوں سمتوں میں بلا رکاوٹ اور بغیر کسی فیس کے جہاز رانی کے لیے کھولا جانا چاہیے۔
امریکی صدر کے مطابق خطے میں موجود بحری بارودی سرنگوں کو بھی ختم کیا جانا ضروری ہے تاکہ عالمی تجارتی سرگرمیاں معمول پر آ سکیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی ناکہ بندی کے باعث آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے بحری جہاز جلد اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہو سکیں گے۔
