مالیاتی خسارہ 0.7 فیصد تک محدود، پاکستان نے تاریخی معاشی سنگِ میل عبور کر لیا

پاکستان نے مالیاتی نظم و ضبط اور اقتصادی استحکام کے میدان میں ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ (جولائی تا مارچ) کے دوران مالیاتی خسارے کو کم کرکے مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے صرف 0.7 فیصد تک محدود کر دیا ہے۔ ملکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ مالیاتی خسارہ ایک فیصد سے بھی نیچے آ گیا ہے، جو معیشت کے لیے ایک غیر معمولی اور حوصلہ افزا پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال اسی مدت میں مالیاتی خسارہ 2.6 فیصد تھا، جو اب نمایاں کمی کے بعد 0.7 فیصد رہ گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بہتری حکومتی مالیاتی اصلاحات، اخراجات پر مؤثر کنٹرول، محصولات میں اضافے اور بہتر اقتصادی انتظام کا نتیجہ ہے۔

اقتصادی مبصرین کے مطابق مالیاتی خسارے میں یہ تاریخی کمی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ملک کی معیشت درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ اس کامیابی سے نہ صرف سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہوگا بلکہ مالیاتی استحکام، قرضوں کے بوجھ میں کمی اور پائیدار اقتصادی ترقی کے امکانات بھی مزید روشن ہوں گے۔

حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ذمہ دارانہ معاشی پالیسیوں، محصولات کے نظام میں بہتری اور مالیاتی نظم و ضبط کے باعث پاکستان کو یہ تاریخی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ماہرین کے نزدیک یہ پیش رفت مستقبل میں معاشی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

مالیاتی خسارے کا ایک فیصد سے نیچے آ جانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان کی معیشت بتدریج مضبوط بنیادوں پر استوار ہو رہی ہے اور ملک معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے