جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) کے وزرائے خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور نئی دشمنیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ موجودہ صورتحال نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن، توانائی کی سپلائی اور اقتصادی استحکام کے لیے بھی خطرات پیدا کر رہی ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں جاری آسیان وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران 11 رکنی تنظیم اور اس کے اہم شراکت دار ممالک کے نمائندوں نے خطے کو درپیش سکیورٹی اور سفارتی چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈیوں، توانائی کی فراہمی اور مہنگائی سے متعلق خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان میں وزرائے خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ پیش رفت امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور مذاکرات کے ذریعے تنازعات کے حل کے امکانات کو کمزور کر رہی ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور اختلافات کے حل کے لیے سفارت کاری اور بات چیت کو ترجیح دیں۔
اجلاس میں یمن کی حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کا بھی ذکر کیا گیا، جسے خلیجی خطے اور عالمی توانائی و تجارتی راستوں کے لیے ایک ممکنہ خطرہ قرار دیا گیا۔
