اسپین میں یورپی پارلیمنٹ کے دفتر کے باہر انسانی حقوق کی تنظیموں، یورپی قانون سازوں اور افغان شہریوں نے طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں طالبان حکومت کی پالیسیوں اور انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران طالبان نے افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کی ہیں، جس کے نتیجے میں ملک خواتین کے لیے ایک "بڑے قید خانے” کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
احتجاج میں شریک افراد نے مؤقف اختیار کیا کہ طالبان کی موجودہ پالیسیاں افغان خواتین اور لڑکیوں کی عزت، سلامتی، تعلیم اور مستقبل کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان کو یورپی اداروں میں مدعو کرنا ان لاکھوں افغان خواتین اور متاثرہ افراد کی مشکلات کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے جو گزشتہ برسوں سے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
مظاہرین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طالبان کو یورپی پارلیمنٹ جیسے جمہوری اداروں میں پلیٹ فارم فراہم کرنے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر ان کی پالیسیوں کا احتساب ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق انسانی حقوق، خواتین کی تعلیم اور اظہارِ رائے کی آزادی کے معاملات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
