منشیات اسمگلنگ میں گرفتار انمول عرف پنکی سے متعلق مزید اہم انکشافات سامنے آگئے۔ سندھ پولیس نے تحقیقات پر پیش رفت رپورٹ وزارت داخلہ میں جمع کرا دی۔ ملزمہ کے تین بھائی اور منشیات سپلائی کرنے والے 25 رائیڈرز بھی گرفتار کرلیے۔ ملزمہ کی جانب سے کوکین میں بیکنگ پاؤڈر سمیت مختلف کیمیکلز کی ملاوٹ کا بھی انکشاف ہوا ہے۔
منشیات اسمگلنگ کیس میں گرفتار انمول عرف پنکی کے حوالے سے سندھ پولیس نے تحقیقات کی پیش رفت رپورٹ وزارت داخلہ کو ارسال کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزمہ کے قبضے سے مجموعی طور پر 1240 گرام کوکین برآمد ہوئی جبکہ اس کے ٹھکانے سے ایک ہزار پچاس گرام ایسیٹون اور پانچ ہزار 240 گرام بیکنگ پاؤڈر بھی ملا۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ملزمہ کوکین میں مختلف کیمیکلز اور بیکنگ پاؤڈر ملا کر اس کی مقدار بڑھاتی تھی اور ایک گرام کوکین کو ملاوٹ کرکے 9 گرام تک بڑھا لیتی تھی۔کارروائی کے دوران ملزمہ سے نائن ایم ایم پستول بھی برآمد کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ملزمہ واٹس ایپ کے ذریعے آرڈرز وصول کرتی اور رائیڈرز کے ذریعے کوکین سپلائی کراتی تھی۔ اب تک اس کے 3 بھائیوں سمیت 25 رائیڈرز گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ اکاؤنٹس ہینڈل کرنے والے ذیشان اور سہیل بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تحویل میں ہیں۔
سندھ پولیس کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی کے خلاف کراچی، لاہور اور انسداد منشیات فورس میں مجموعی طور پر 28 مقدمات درج ہیں۔ ملزمہ کے موبائل فون سے 868 نمبرز کا ریکارڈ بھی حاصل کیا گیا ہے۔
تحقیقات کے دوران منی لانڈرنگ کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں جس کے بعد ایف آئی اے نے بینک ٹرانزیکشنز کی چھان بین شروع کر دی ۔ پنکی اور اس کے نیٹ ورک سے متعلق 23 بینک اکاؤنٹس منجمد کر کے تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔
