مشرقِ وسطیٰ سنگین بحران کی طرف بڑھ رہا ہے، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا انتباہ

اقوام متحدہ کی پاکستان اور افغانستان سے کشیدگی کم کرنے اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی اپیل

انتونیو گوتریس نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک خطرناک اور غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو رہا ہے، جس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

اپنے بیان میں سیکریٹری جنرل اقوامِ متحدہ نے کہا کہ خطے میں حالیہ پیش رفت نے پہلے سے موجود نازک صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں ہونے والے وسیع پیمانے پر حملوں کے باعث جنگ بندی کی امیدیں کمزور پڑ گئی ہیں اور صورتحال ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

انتونیو گوتریس نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے خلیج فارس کے ممالک کے درمیان ایک نئے علاقائی سیکیورٹی فریم ورک کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نظام کی بنیاد باہمی احترام، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور علاقائی تعاون پر ہونی چاہیے تاکہ مستقل استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ کشیدگی کو معمولی واقعہ سمجھنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ تیزی سے ایک وسیع اور مکمل جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کے انسانی، سیاسی اور معاشی نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کریں، مزید حملوں سے گریز کریں اور تنازع کے حل کے لیے مذاکرات اور سیاسی مفاہمت کو ترجیح دیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بحران کا پائیدار حل صرف بات چیت، سفارتکاری اور بین الاقوامی قوانین کے احترام کے ذریعے ہی ممکن ہے، جبکہ مزید عسکری اقدامات خطے کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے