وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ 2 سال میں مہنگائی 38فیصد سے کم ہوکر سنگل ڈیجیٹ پر آئی، معاشی چیلنجز کے باوجود آج معیشت مستحکم ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ خلیجی ممالک میں بحران کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا، بینکوں کا پالیسی ریٹ بھی 22.5سے کم ہوکر11فیصد پر آیا ہے۔ گلف میں بحران کی وجہ سے پالیسی ریٹ میں کمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شہبازشریف نے کہا کہ آج تمام تر چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے ہماری معیشت مستحکم ہے، بجٹ پیش ہونے کے بعد معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومنا شروع کردے گا۔ ہم سب مل کر دن رات محنت کریں اور اپنی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے تیاریاں کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پانی کے ذخائر بنانے ہوں گے، توانائی کے متبادل ذرائع پر فوری طور پر تیزی سے قدم بڑھانے ہوں گے، سولر پینلز، ونڈ، بیٹری سمیت دیگر معاملات کیلئے فنڈز چاہئیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ ماہ میں صوبوں کے ساتھ بڑی بھرپور بات چیت رہی ہے، پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخوا کے ساتھ بھرپور بات چیت رہی۔ صوبوں کو بتایا گیا کہ وفاق کو کس طریقے سے اضافی فنڈز کی ضرورت ہے، صوبوں کے ساتھ بڑے معنی خیز مذاکرات شروع ہوئے۔
شہبازشریف نے کہا کہ دفاع، واٹر سیکیورٹی کے چیلنجز کیلئے تیار ہیں، آج ٹیکس ریلیف اور معیشت کو آگے بڑھانے کیلئے اقدامات پیش کریں گے، آئی ایم ایف سے بڑے مکالمے ہوئے، آخری مکالمہ ایم ڈی آئی ایم ایف سے میرا ہوا، معیشت کے حوالے سے ہماری کارکردگی سے وہ بڑی معترف ہیں، انہوں نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ پاکستان کے حوالے سے مطمئن ہوں اور ستائش کرتی ہوں۔
