مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی آبادی، مساجد، گھروں، گاڑیوں اور زرعی اراضی پر حملوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوں اور بین الاقوامی اداروں نے ان واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
رام اللّٰہ کے قریب واقع ایک قصبے کے 92 سالہ فلسطینی نژاد امریکی شہری یاسر سقر راشد نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک شام مغرب کی نماز کے بعد وہ مسجد میں قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے کہ مسلح آبادکاروں نے حملہ کر دیا۔ ان کے مطابق ایک حملہ آور نے مسجد کی کھڑکی پر آتش گیر مواد پھینکا اور انہیں مسجد سمیت زندہ جلانے کی کوشش کی۔
یاسر سقر راشد کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں نے مسجد کے اندر توڑ پھوڑ کی اور مقامی شہریوں کی چھ گاڑیوں کو آگ لگا دی، جبکہ اسی رات قریبی قصبے برقہ میں واقع ایک اور مسجد کو بھی نذر آتش کرنے کی کوشش کی گئی۔
نابلس کے قریب ایک گاؤں کے رہائشی 41 سالہ صادق فقیہ نے بتایا کہ اپریل 2026 میں آبادکاروں نے ان کے گھر پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے نتیجے میں ان کی حاملہ اہلیہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئیں اور قبل از وقت بچے کی پیدائش ہوئی، جو اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہے۔
فلسطینی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق مئی 2026 کے دوران فلسطینیوں اور ان کی املاک پر مجموعی طور پر ایک ہزار 659 حملے ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے 551 حملے اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے کیے گئے۔ اس عرصے میں 7 ہزار 222 درختوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ متعدد گھروں، مساجد اور دیگر املاک کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق آبادکاروں کے حملوں اور بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث مغربی کنارے میں 117 سے زائد فلسطینی بستیاں اور دیہات مکمل یا جزوی طور پر خالی ہو چکے ہیں۔
