ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی عمل کو برقرار رکھنے اور سوئٹزرلینڈ میں متوقع تکنیکی مذاکرات کے انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی سرگرمیاں مزید تیز کر دی ہیں۔ اسی سلسلے میں پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی ہفتہ کے روز تہران پہنچ گئے، جہاں انہوں نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات، خطے کی موجودہ صورتحال اور ایران اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکراتی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
العربیہ، ایرانی خبر رساں ایجنسی اسنا اور دیگر ذرائع کے مطابق ایرانی وفد نے لبنان میں اسرائیلی حملوں اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مذاکراتی عمل سے دستبردار ہونے یا اسے مؤخر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی خواہش ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کو محرم الحرام اور عاشورہ کی رسومات کے بعد تک مؤخر کیا جائے، جبکہ لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کو بھی مذاکرات کے لیے ایک بڑی رکاوٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی ہے کہ محسن نقوی کا دورہ ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ مفاہمتی یادداشت کے بعد سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی وزیر داخلہ نے تہران میں وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں، جن میں خطے کی صورتحال اور آئندہ مذاکراتی مراحل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
العربیہ کے ذرائع کے مطابق محسن نقوی تہران ایسے پیغامات اور یقین دہانیوں کے ساتھ پہنچے ہیں جن کا مقصد ایران کو مذاکرات کے عمل سے الگ ہونے یا مزید تاخیر سے روکنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اگر تہران بغیر تاخیر کے مذاکرات میں شرکت پر رضامند ہو جاتا ہے تو پاکستان کا ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی سوئٹزرلینڈ روانہ کیا جا سکتا ہے تاکہ سفارتی عمل کو کامیاب بنانے میں معاونت فراہم کی جا سکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں سب سے پیچیدہ مسئلہ لبنان کی صورتحال ہے۔ ایرانی وفد نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھیں تو تہران مذاکراتی عمل سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں اسلام آباد تہران کو مسلسل رابطے برقرار رکھنے اور سفارتی دروازے کھلے رکھنے کا مشورہ دے رہا ہے۔
