جی سی سی اور امریکا کے مشترکہ اعلامیے پر ایران کا سخت ردعمل، امریکی موجودگی کو خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ قرار دے دیا

ایران کا یورپ کو انتباہ: جنگ میں شمولیت کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا

ایران نے بحرین میں ہونے والے امریکا اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے مشترکہ وزارتی اجلاس کے اعلامیے کو مسترد کرتے ہوئے اسے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام کی اصل وجہ امریکا کی فوجی موجودگی اور اس کی پالیسیوں کا تسلسل ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ مشترکہ اعلامیے میں شامل بعض نکات حقیقت پر مبنی نہیں اور یہ خطے میں اعتماد سازی کے بجائے اختلافات کو ہوا دینے کا باعث بن سکتے ہیں۔

ترجمان نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی ایسے اقدام کے لیے استعمال نہ ہونے دیں جو ایران کی سلامتی یا خودمختاری کے خلاف ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن اور استحکام صرف علاقائی ممالک کے درمیان باہمی تعاون، اعتماد اور سفارتی روابط کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

آبنائے ہرمز سے متعلق ایرانی مؤقف دہراتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کا انتظام عمان کے ساتھ طے پانے والے مفاہمتی معاہدے (میمورنڈم) کے مطابق جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور عدم تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔

یہ ردعمل ایک روز قبل بحرین میں منعقد ہونے والے امریکا اور خلیج تعاون کونسل کے مشترکہ وزارتی اجلاس کے اعلامیے کے بعد سامنے آیا، جس میں غزہ کی صورتحال، لبنان، ایران کے جوہری پروگرام، علاقائی سلامتی اور آبنائے ہرمز میں آزاد بحری آمدورفت سمیت متعدد علاقائی معاملات پر مشترکہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا۔

مشترکہ اعلامیے میں اس بات کا اعادہ کیا گیا تھا کہ غزہ سے کسی بھی فلسطینی کو زبردستی بے دخل نہیں کیا جائے گا، جبکہ عارضی طور پر جانے والوں کو واپسی کا حق حاصل ہوگا۔ اعلامیے میں لبنان میں ریاست کے علاوہ تمام مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ لبنان سے متعلق مذاکرات کو دیگر علاقائی تنازعات سے مشروط نہ کیا جائے تاکہ ملک میں سیاسی اور سکیورٹی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے