حکومت پاکستان کی جانب سے زرعی شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ نے قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2025 کی منظوری دے دی۔
حکومت نے قومی زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی 2025 کی منظوری دے کر جدید اور سائنسی بنیادوں پر زراعت کے فروغ کی راہ ہموار کی۔
پالیسی ڈھائی سالہ مشاورتی عمل کے بعد سائنسدانوں، کسانوں، صنعت اور متعلقہ اداروں کی مشاورت سے تیار کی گئی جس کا مقصد کسانوں کی مدد، غذائی تحفظ، زرعی پیداوار میں اضافہ، ذمہ دارانہ سرمایہ کاری اور جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فروغ ہے۔
جدید بائیو ٹیکنالوجی سے فصلوں کی پیداوار بڑھانے، نقصانات کم کرنے اور موسمی چیلنجز سے نمٹنے میں مدد ملے گی۔
جینیاتی طور پر تبدیل شدہ مکئی نے پاکستان کے مقررہ حفاظتی اور ریگولیٹری مراحل مکمل کرنے کے بعد منظوری حاصل کی۔ جدید زرعی ٹیکنالوجی سے پاکستان کی مکئی کی برآمدات موجودہ 288 سے 345 ڈالر سے بڑھ کر ایک ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
قومی زرعی بائیو ٹیکنالوجی پالیسی پر مؤثر عمل درآمد زرعی پیداوار، برآمدات اور کسانوں کی آمدن بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔
