لیفٹیننٹ جنرل (ر) سینیٹر عبد القیوم کی بلا مقابلہ دوبارہ کامیابی — اعتماد، قیادت اور خدمت کے سفر کا ایک اور سنگِ میل

پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (PESS) کے 65ویں جنرل کونسل اجلاس میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) سینیٹر عبد القیوم، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، کو مسلسل دوسری مرتبہ بلا مقابلہ صدر منتخب کر لیا گیا۔ یہ انتخاب محض ایک تنظیمی کارروائی نہیں بلکہ لاکھوں سابق فوجیوں کی جانب سے ان کی قیادت، کردار اور خدمات پر بھرپور اعتماد کا اظہار ہے۔ راولپنڈی میں منعقدہ اس اہم اجلاس میں ملک بھر سے آئے ہوئے ریٹائرڈ فوجی افسران اور نمائندوں نے متفقہ طور پر انہیں آئندہ تین برس کے لیے اپنی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم کی قیادت سونپ دی، جبکہ اجلاس نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں ہندوستان کی جارحیت کے خلاف افواج پاکستان کی کارکردگی کو سراہا اور ملکی سلامتی کے تحفظ میں فوج کے ساتھ ہر حال میں کھڑے رہنے کا عیادہ کیا ۔

پاکستان جیسے ملک میں، جہاں عسکری روایات قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں، سابق فوجیوں کی نمائندہ تنظیم کی قیادت محض ایک اعزازی منصب نہیں بلکہ ایک بڑی قومی ذمہ داری ہے۔ لاکھوں ریٹائرڈ فوجیوں، ان کے اہلِ خانہ، شہداء کے ورثاء اور غازیوں کے مسائل، توقعات اور احساسات کی نمائندگی کرنا ایسی ذمہ داری ہے جو صرف اسی شخصیت کو سونپی جا سکتی ہے جس پر اجتماعی اعتماد موجود ہو۔ جنرل عبد القیوم کی بلا مقابلہ دوبارہ کامیابی اسی اعتماد کا واضح مظہر ہے۔

پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی تاریخ بھی دراصل پاکستان کی عسکری تاریخ کا تسلسل ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد لاکھوں سابق فوجیوں کو پنشن، علاج، روزگار، شہداء کے خاندانوں کی کفالت اور دیگر فلاحی مسائل کا سامنا تھا۔ انہی ضروریات کے پیشِ نظر نوّے کی دہائی میں ایسی تنظیم کی بنیاد رکھی گئی جو سابق فوجیوں کی اجتماعی آواز بن سکے۔ اس مشن کے آغاز میں جنرل ٹکا خان، ایڈمرل محمد شریف، ایئر مارشل اصغر خان، لیفٹیننٹ جنرل فیض علی چشتی، لیفٹیننٹ جنرل حمید گل اور دیگر ممتاز عسکری شخصیات شریک رہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ تنظیم پاکستان کے تقریباً چونتیس لاکھ سابق فوجیوں کی سب سے بڑی نمائندہ قوت بن گئی۔

اس ادارے کی قیادت ہمیشہ ملک کی ممتاز عسکری شخصیات کے ہاتھ میں رہی، تاہم جنرل عبد القیوم کا مقام کئی حوالوں سے منفرد ہے۔ وہ نہ صرف اس تنظیم کی تاریخ میں دوسری مرتبہ منتخب ہونے والے چند صدور میں شامل ہیں بلکہ مسلسل دوسری مدت کے لیے بلا مقابلہ منتخب ہونے والے واحد حاضر صدر بھی ہیں۔ یہ اعزاز کسی رسمی روایت کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی کارکردگی، فعال قیادت اور سابق فوجیوں کے مسائل کے لیے مسلسل جدوجہد کا اعتراف ہے۔

جنرل عبد القیوم کی شخصیت صرف ایک فوجی افسر تک محدود نہیں رہی۔ ان کا عملی سفر عسکری خدمات، انتظامی مہارت، پارلیمانی تجربے، علمی تحقیق اور سماجی خدمت کا ایک جامع امتزاج پیش کرتا ہے۔ پاک فوج میں اعلیٰ ذمہ داریاں نبھانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دو وزرائے اعظم کے ملٹری سیکریٹری کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دیں، جہاں انہیں ریاستی امور اور اعلیٰ سطح کی فیصلہ سازی کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ یہ تجربہ ان کی انتظامی بصیرت میں مزید نکھار کا باعث بنا۔

ریٹائرمنٹ کے بعد بھی ان کی قومی خدمات کا سفر رکا نہیں۔ پاکستان آرڈیننس فیکٹریز اور پاکستان اسٹیل جیسے ملک کے دو بڑے صنعتی اداروں کی کامیاب سربراہی نے انہیں ایک مؤثر منتظم کے طور پر ممتاز کیا۔ بعد ازاں سینیٹر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداوار کے چیئرمین کی حیثیت سے ملکی دفاعی صنعت، مقامی پیداوار، تکنیکی خود انحصاری اور دفاعی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے قابلِ ذکر کردار ادا کیا۔ دفاعی شعبے سے متعلق ان کی گہری بصیرت اور عملی تجربہ پارلیمانی مباحث میں ہمیشہ نمایاں رہا۔

جنرل عبد القیوم کا ایک اور نمایاں پہلو ان کی علمی خدمات ہیں۔ وہ قومی سلامتی، دفاع، ریاستی نظم و نسق اور اسٹریٹجک امور پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کی فیکلٹی کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے عسکری اور سول قیادت کی نئی نسل کو بھی اپنی دانش اور تجربے سے مستفید کیا۔ اس اعتبار سے وہ ان چند فوجی افسران میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے میدانِ عمل کے ساتھ ساتھ میدانِ فکر میں بھی اپنی الگ شناخت قائم کی۔

ان کی شخصیت کا سب سے مؤثر پہلو شاید ان کا عوامی مزاج ہے۔ انہیں محض ایک ریٹائرڈ جنرل کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے "عوامی جنرل” کے طور پر جانا جاتا ہے جو سابق فوجیوں، نوجوانوں، طلبہ، سول سوسائٹی اور عام شہریوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں مختلف قومی اداروں میں اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ وہ ادارہ نظریۂ پاکستان کے وائس چیئرمین، پاک یوتھ اسمبلی کے چیف پیٹرن اور پاک چین بزنس فورم کے چیف پیٹرن کی حیثیت سے بھی قومی سطح پر فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد جنرل عبد القیوم نے تنظیم کو مزید متحرک، مؤثر اور مربوط بنانے پر خصوصی توجہ دی۔ پنشن کے مسائل ہوں، سابق فوجیوں کی صحت کی سہولیات، روزگار، معذور غازیوں کی فلاح یا شہداء کے خاندانوں کے حقوق، انہوں نے ہر مسئلے کو ذمہ دارانہ انداز میں متعلقہ فورمز پر اجاگر کیا۔ ان کی کوششوں کا بنیادی مقصد ہمیشہ یہی رہا کہ وطن کے دفاع کے لیے اپنی زندگیاں وقف کرنے والوں کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عزت، وقار اور بہتر معیارِ زندگی میسر آئے۔

انہوں نے بارہا اس حقیقت پر زور دیا ہے کہ سابق فوجی محض ریٹائرڈ افراد نہیں بلکہ پاکستان کی دفاعی قوت کا ایک زندہ اور متحرک اثاثہ ہیں۔ ان کے نزدیک وردی اتارنے کے بعد بھی حب الوطنی، نظم و ضبط، قومی وفاداری اور خدمت کا جذبہ ختم نہیں ہوتا بلکہ نئی صورت میں جاری رہتا ہے۔ یہی سوچ پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے کردار کو محض ایک فلاحی تنظیم سے بڑھا کر قومی یکجہتی اور حب الوطنی کے فروغ کا ایک مؤثر ادارہ بناتی ہے۔

جنرل عبد القیوم کی بلا مقابلہ دوبارہ کامیابی اس حقیقت کا اظہار ہے کہ قیادت کا اصل معیار منصب نہیں بلکہ خدمت، کردار اور اعتماد ہوتا ہے۔ جب کسی شخصیت کو لاکھوں افراد کی نمائندہ تنظیم مسلسل دوسری مرتبہ متفقہ طور پر اپنی قیادت سونپ دے تو یہ صرف ایک انتخابی کامیابی نہیں بلکہ ایک اجتماعی اعتراف ہوتا ہے کہ اس نے اپنے فرائض دیانت، خلوص اور قابلیت کے ساتھ انجام دیے ہیں۔

آج جبکہ پاکستان کو قومی یکجہتی، ادارہ جاتی استحکام اور تجربہ کار قیادت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، لیفٹیننٹ جنرل (ر) سینیٹر عبد القیوم کی دوبارہ کامیابی نہ صرف سابق فوجیوں کے اعتماد کی عکاس ہے بلکہ اس بات کی بھی علامت ہے کہ خدمت، دیانت اور وژن پر مبنی قیادت ہمیشہ اپنے لیے احترام اور اعتماد کی نئی راہیں پیدا کرتی ہے۔

یہ امید بجا ہے کہ اپنی نئی مدتِ صدارت میں جنرل عبد القیوم پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کو مزید مضبوط، فعال اور مؤثر بنائیں گے، سابق فوجیوں کے مسائل کے حل کے لیے اپنی جدوجہد کو مزید وسعت دیں گے اور حب الوطنی، قومی وحدت اور عوامی خدمت کے اس سفر کو اسی عزم کے ساتھ جاری رکھیں گے جس نے انہیں ملک کی ممتاز عسکری، پارلیمانی اور سماجی شخصیات میں ایک منفرد مقام عطا کیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے