ایرانی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکا کے تازہ حملوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران جاری رہنے والی تمام سفارتی کوششوں کو بے سود بنا دیا ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز میں ایران کے انتظامی امور میں کھلی مداخلت کی، جس کے باعث نہ صرف اس اہم بحری گزرگاہ میں دوبارہ غیر یقینی اور عدم تحفظ کی صورتحال پیدا ہوئی بلکہ بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی بھی متاثر ہوئی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ہفتے کے روز عمان کے دارالحکومت مسقط میں ہونے والے مذاکرات کا مرکزی موضوع آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق تھا، تاہم امریکا نے عمان پر دباؤ ڈال کر اس معاملے پر کسی حتمی پیش رفت کو روک دیا۔
