سیکرٹری خزانہ کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز کا 40 فیصد حصہ یکمشت جاری کیا گیا ہے، ترقیاتی پروگرام میں شامل نئے منصوبوں کے لیے فنڈز ان منصوبوں کی منظوری پر جاری کیے جائیں گے،محکمہ خزانہ فنڈز کے بروقت اجرا سے ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد یقینی ہو گا۔
کامران احمد آفریدی نے بتایا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے خطیر رقم کا اجراء صوبے کے مالی استحکام کا واضح ثبوت ہے، بندوبستی اضلاع کے منصوبوں کے لیے 61 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔
محکمہ خزانہ کے مطابق ضم اضلاع کے لیے تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے تحت 11 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، ضم اضلاع کی اے ڈی پی کے تحت 7.9 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، بندوبستی اضلاع سڑکوں کے لیے 12ارب، آبپاشی کے لیے 5.8 ارب،شہری ترقی کے لیے 8.8 ارب ، لوکل گورنمنٹ کے لیے 2 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔
سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ ابنوشی کے لیے 3 ارب ، ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 1.9 ارب ، صحت کے لیے 4.5 ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کے لیے 1.7 ارب روپے، امن و امان کے لیے 1.7 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، ضم اضلاع کی اے آئی پی کے تحت جاری منصوبوں کے لیے سڑکوں کے شعبے میں 2.3 ارب ، صحت کے لیے 1.2 ارب، ابتدائی و ثانوی تعلیم کے لیے 1 ارب جاری کیے گئے ہیں۔
کامران احمد آفریدی کا کہنا ہے کہ امن و امان کے لیے 1.6 ارب جبکہ ابنوشی کے لیے 705 ملین روپے جاری کیے گئے ہیں، ضم اضلاع اے ڈی پی کے تحت سڑکوں کے لیے 1.5 ارب روپے، آبپاشی کے لیے 46 کروڑ جاری کیے گئے ہیں، ضم اضلاع اے ڈی پی میں امن وامان کے لیے 1.3 ارب ، ابنوشی کے لیے 33 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
