سعودی عرب اور امریکا نے جوہری توانائی میں تعاون کے معاہدے ’123 ایگریمنٹ‘ پر دستخط کر دیے

سعودی عرب اور امریکہ نے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے تاریخی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق بدھ کے روز ہونے والے اس معاہدے کو "123 معاہدہ” (123 Agreement) کہا جاتا ہے، جو امریکا کے کسی بھی ملک کے ساتھ سول جوہری تعاون کے لیے بنیادی قانونی فریم ورک کی حیثیت رکھتا ہے۔

معاہدے پر سعودی وزیرِ توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان اور امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے باضابطہ دستخط کیے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس معاہدے کو "دوطرفہ تحفظات کا معاہدہ” قرار دیا ہے۔

سعودی وزارتِ توانائی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں پر محیط اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنائے گا اور گزشتہ نومبر ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے دورۂ امریکا کے دوران پرامن جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون سے متعلق مذاکرات کی کامیاب تکمیل کا تسلسل ہے۔

وزارت کے مطابق معاہدے کا مقصد توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا، مہارت، علم اور جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ آسان بنانا اور جوہری حفاظت، جوہری سلامتی اور عدم پھیلاؤ کے اعلیٰ ترین بین الاقوامی معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔

امریکی وزیرِ توانائی کرس رائٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا، دونوں ممالک میں اقتصادی خوشحالی کو فروغ دے گا اور خطے میں اتحادیوں کے تحفظ اور سلامتی کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے