پاکستان واپس جاؤ’ بیان نسل پرستانہ قرار، آسٹریلوی وفاقی عدالت نے پالین ہینسن کی اپیل خارج کر دی

آسٹریلیا کی وفاقی عدالت نے دائیں بازو کی معروف سیاست دان اور ون نیشن پارٹی کی رہنما سینیٹر پالین ہینسن کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ان کے نسل پرستانہ بیان کے خلاف پہلے سے جاری فیصلہ برقرار رکھا ہے، جسے آسٹریلیا میں نسلی امتیاز اور اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے ایک اہم قانونی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ مقدمہ 2022 میں اس وقت شروع ہوا تھا جب پاکستان میں پیدا ہونے والی آسٹریلوی سینیٹر مہرین فاروقی نے ملکہ الزبتھ دوم کی وفات پر اپنے بیان میں برطانوی سلطنت کو نوآبادیاتی نظام اور نسل پرستی سے جوڑا تھا۔ اس بیان کے ردعمل میں پالین ہینسن نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر مہرین فاروقی آسٹریلیا سے خوش نہیں ہیں تو "اپنا سامان باندھیں اور پاکستان واپس چلی جائیں۔”

مہرین فاروقی نے اس بیان کو نسل پرستانہ اور امتیازی قرار دیتے ہوئے وفاقی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ عدالت نے 2024 میں اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ پالین ہینسن کا بیان نسل پرستی کی واضح مثال ہے اور اس سے نہ صرف مہرین فاروقی بلکہ آسٹریلیا میں مقیم مسلمانوں، تارکین وطن اور مختلف نسلی پس منظر رکھنے والے افراد کی توہین اور ذہنی اذیت کا خدشہ پیدا ہوا۔

عدالت نے قرار دیا تھا کہ یہ بیان آسٹریلیا کے نسلی امتیاز کے خلاف قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، کیونکہ ایسے ریمارکس متاثرہ افراد کے لیے خوف، تحقیر اور امتیازی ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔

پالین ہینسن نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا بیان آزادیٔ اظہار کے دائرے میں تھا اور متعلقہ قانون کی آئینی حیثیت پر بھی سوال اٹھایا، تاہم وفاقی عدالت نے پیر کو ان کی تمام اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سابقہ فیصلہ برقرار رکھا۔

فیصلے کے بعد پالین ہینسن نے کہا کہ وہ ملکہ الزبتھ دوم کے انتقال کے روز مہرین فاروقی کے بیان پر شدید ناراض تھیں اور ان کا مقصد صرف اس پر ردعمل دینا تھا۔

پالین ہینسن کئی برسوں سے آسٹریلیا میں سخت امیگریشن پالیسی، غیر قانونی تارکین وطن کی بے دخلی اور اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق اپنے سخت مؤقف کی وجہ سے متنازع سیاسی شخصیت سمجھی جاتی ہیں۔ حالیہ عوامی جائزوں کے مطابق ان کی جماعت ون نیشن کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے اور وہ سرکاری اخراجات میں کمی سمیت بعض بین الاقوامی اداروں میں آسٹریلیا کی رکنیت پر نظرثانی کی بھی حامی ہیں۔

دوسری جانب مہرین فاروقی گرینز پارٹی سے تعلق رکھنے والی نمایاں سینیٹر ہیں، جو انسانی حقوق، ماحولیاتی تحفظ، تارکین وطن اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے سرگرم آواز سمجھی جاتی ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے