وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نےکہا ہے کہ پاکستان میں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کا شکار ہیں، جبکہ ملک کو 2023 تک ہیپاٹائٹس سی فری بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے تقریب سے خطاب میں مصطفیٰ کمال نے کہا وزیراعظم کے ہیپاٹائٹس پروگرام کے تحت 68 ہزار روپے مالیت کی دوائیں اور 60 ہزار روپے تک کے ٹیسٹ مفت فراہم کیے جا رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا اب تک اکیس ہزار شہریوں کی اسکریننگ کی جا چکی ہے جن میں سے 1700 افراد میں ہیپاٹائٹس کی تشخیص ہوئی ۔ وفاقی وزیر صحت کے مطابق بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں ہیپاٹائٹس کینسر کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اسکریننگ پہلے مرحلے میں اسلام آباد، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شروع کی گئی ہے، جسے بعد ازاں تمام صوبوں تک توسیع دی جائے گی۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ حکومت ایک ایسا قانون متعارف کروا رہی ہے جس کے تحت جس بھی طبی عمل یا آپریشن میں جلد کو کاٹا جائے گا، وہاں ایچ آئی وی ایڈز اور ہیپاٹائٹس کے ٹیسٹ لازمی ہوں گے۔ یہ قانون بارہ سال یا اس سے زائد عمر کے افراد پر لاگو ہوگا۔ تقریب میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہیپاٹائٹس میں ہم پہلےاورپولیو میں دوسرے نمبر پر ہیں ۔۔ ملک میں نیشنل ایمرجنسی لگان کی ضرورت ہے انتظامی استحکام پر زور دیتے ہوئے کہا سیکرٹریز کی بار بار تبدیلی کے بجائے انہیں کم از کم دو سے تین سال تک ایک ہی عہدے پر کام کرنے دیا جانا چاہیے تاکہ پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد ممکن ہو سکے۔
