سری لنکا کی ایک عدالت نے 2019 کے ہولناک ایسٹر سنڈے بم دھماکوں میں مجرمانہ غفلت ثابت ہونے پر سابق پولیس چیف پوجیت جیاسندرا کو سزائے موت سنا دی۔ ان حملوں میں 260 سے زائد افراد ہلاک جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تین رکنی ہائی کورٹ بینچ نے جمعہ کو فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ سابق پولیس سربراہ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے موصول ہونے والی متعدد پیشگی وارننگز پر بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہے، جس کے باعث دہشت گرد حملے نہ روکے جا سکے۔
تاہم سری لنکا میں سزائے موت پر 1976 سے غیر رسمی پابندی عائد ہے، اس لیے عملی طور پر موت کی سزا عموماً عمر قید میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
21 اپریل 2019 کو ایسٹر سنڈے کے موقع پر خودکش بمباروں نے تین گرجا گھروں اور تین لگژری ہوٹلوں کو نشانہ بنایا تھا۔ حملوں میں 42 غیر ملکی شہریوں سمیت 260 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔
حکام کے مطابق ان حملوں کی ذمہ داری مقامی شدت پسند گروپوں پر عائد کی گئی تھی، جنہیں شدت پسند تنظیم داعش سے متاثر قرار دیا گیا تھا۔
بعد ازاں ایک پارلیمانی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ پولیس اور انٹیلی جنس حکام کو حملوں سے قبل متعدد بار ممکنہ دہشت گردی کے خطرے سے آگاہ کیا گیا، لیکن ان اطلاعات پر مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
عدالت نے سابق پولیس چیف کو فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی دیا ہے۔
اسی مقدمے میں وزارت دفاع کے سابق سیکریٹری ہیماسیری فرنینڈو کے خلاف بھی عدالت کی جانب سے علیحدہ فیصلہ متوقع ہے۔
