امریکا نے اردن میں 3 ایف-35 طیارے تباہ ہونے کا ایرانی دعویٰ مسترد کر دیا

CENTCOM's possible military plans, briefing to Donald Trump expected today

امریکی فوج نے ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے اردن کے ال ازرق ایئربیس پر تین امریکی ایف-35 جنگی طیارے تباہ کرنے کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ ایرانی حملوں میں کسی امریکی جنگی طیارے کو نقصان نہیں پہنچا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کی جانب سے کیے گئے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں کے دوران کوئی امریکی طیارہ تباہ یا متاثر نہیں ہوا۔

سینٹکام کے مطابق ایران کی جانب سے داغے گئے تمام میزائل اور ڈرون یا تو فضاء ہی میں تباہ کر دیے گئے یا وہ اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے۔

امریکی فوج نے ایران کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کے دوران تجارتی آئل ٹینکر "نورا” کو نقصان پہنچا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس حوالے سے گردش کرنے والی اطلاعات درست نہیں ہیں۔

سینٹکام نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں جاری آپریشنز کے دوران امریکی بحری اور فضائی افواج مکمل طور پر متحرک ہیں۔ اس مقصد کے لیے 20 سے زائد جنگی بحری جہاز، سیکڑوں فوجی طیارے اور ہزاروں امریکی اہلکار تعینات ہیں تاکہ سمندری آپریشنز اور سکیورٹی اقدامات جاری رکھے جا سکیں۔

دوسری جانب، اس سے قبل ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے اردن میں امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس کے بعد مبینہ طور پر تین ایف-35 لڑاکا طیارے تباہ اور متعدد دیگر کو نقصان پہنچا۔ ایرانی میڈیا نے اس دعوے کے ساتھ سیٹلائٹ تصاویر بھی جاری کی تھیں، جن میں موفق السلطي ایئر بیس کے ہینگرز دکھائے گئے تھے جہاں امریکی جنگی طیاروں کی موجودگی کا دعویٰ کیا گیا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے