پاکستان کے معروف مذہبی اسکالر مولانا طارق جمیل کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس میں انہیں ڈاکٹر عفان قیصر کے ساتھ ملاقات کے دوران یوگا کی مختلف مشقیں کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد صارفین کی جانب سے مختلف آراء اور تبصرے سامنے آ رہے ہیں۔
مولانا طارق جمیل کا شمار پاکستان کی ممتاز مذہبی شخصیات میں ہوتا ہے۔ وہ اپنی معتدل، مثبت اور اصلاحی گفتگو کے باعث ملک بھر میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ حالیہ وائرل ویڈیو میں انہوں نے اپنی عمر اور ماضی میں صحت کے مسائل کے باوجود جسمانی لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند یوگا مشقیں انجام دیں، جس نے سوشل میڈیا صارفین کی توجہ حاصل کر لی۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مختلف حلقوں کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے ویڈیو پر تنقید کرتے ہوئے اسے نامناسب قرار دیا، جبکہ بعض صارفین نے سوال اٹھایا کہ ایسی نجی سرگرمی کو عوامی سطح پر شیئر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔
دوسری جانب متعدد صارفین نے مولانا طارق جمیل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یوگا یا جسمانی ورزش صحت برقرار رکھنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اور اسے مذہبی تناظر کے بجائے صحت و تندرستی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔ کئی افراد کا کہنا تھا کہ ہر شخص کو اپنی پسند کی جسمانی سرگرمی اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔
