خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی اشتراک محض تین ملکوں کا معاہدہ نہیں، بلکہ بدلتے ہوئے عالمی نظام میں مسلم دنیا کے اپنے دفاعی مستقبل کی تلاش کا آغاز ہے۔
عالمی سیاست میں بعض معاہدے کاغذ پر چند صفحات ہوتے ہیں، مگر ان کے اثرات آنے والی کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ بعض فیصلے بظاہر تین ملکوں کے درمیان طے پاتے ہیں، لیکن ان کے اندر پورے خطے کی تزویراتی سمت تبدیل کرنے کی صلاحیت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مکہ مکرمہ میں طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی اسی نوعیت کی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے۔
اس معاہدے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ تینوں ممالک کی اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنایا جائے، دفاعی تعاون کو فروغ دیا جائے اور کسی ایک فریق کے خلاف مسلح جارحیت کو مشترکہ خطرے کے طور پر دیکھا جائے۔ معاہدے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ 51 کو بنیادی اصول قرار دیا گیا ہے، جو انفرادی اور اجتماعی دفاع کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ اصل اہمیت یہاں سے شروع ہوتی ہے۔
یہ معاہدہ اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی ایک کوشش دکھائی دیتا ہے کہ کیا مسلم دنیا اپنی سلامتی کو ہمیشہ بیرونی طاقتوں کی ضمانتوں، ترجیحات اور تزویراتی فیصلوں کے تابع رکھے گی، یا وقت کے ساتھ ساتھ اپنی دفاعی صلاحیتوں، معاشی وسائل، جغرافیائی اہمیت اور عسکری تجربے کو ایک مشترکہ سلامتی کے تصور میں ڈھال سکے گی؟
مکہ مکرمہ میں اس معاہدے کا طے پانا اس سوال کو مزید معنویت عطا کرتا ہے۔ مکہ صرف سعودی عرب کا شہر نہیں، بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے مذہبی اور روحانی شعور کا مرکز ہے۔ چنانچہ اگر تین بڑے مسلم ممالک اپنے دفاعی تعاون کے ایک نئے باب کا آغاز اسی سرزمین سے کرتے ہیں، تو اس کے علامتی اثرات بھی معمولی نہیں ہو سکتے۔
تین ملک، تین طاقتیں اور ایک تزویراتی ضرورت
اس معاہدے کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے ان تینوں ممالک کی انفرادی حیثیت کو سمجھنا ہوگا۔
-
پاکستان: عالمِ اسلام کی واحد جوہری طاقت ہے۔ اس کے پاس ایک بڑی اور تجربہ کار مسلح افواج، وسیع انسانی وسائل، اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور نیوکلیئر ڈیٹرنٹ صلاحیت موجود ہے۔ پاکستان کی یہ حیثیت کسی بھی وسیع تر اسلامی دفاعی تصور کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔
-
ترکیہ: نیٹو کا رکن ہے، اس کی دفاعی صنعت نے گزشتہ برسوں میں نمایاں ترقی کی ہے اور ڈرونز سمیت مختلف دفاعی ٹیکنالوجیز میں اس نے اپنی خود انحصاری کو بڑھایا ہے۔
-
سعودی عرب: اس کے پاس وسیع مالی وسائل، توانائی کی طاقت، خلیج میں انتہائی اہم جغرافیائی محلِ وقوع اور عالمِ اسلام میں غیر معمولی سیاسی و مذہبی اہمیت موجود ہے۔
اگر اس تکون کو ایک مشترکہ تزویراتی فریم ورک میں دیکھا جائے تو تصویر واضح ہو جاتی ہے:
-
سعودی عرب: مالیاتی طاقت اور تزویراتی جغرافیہ
-
ترکیہ: دفاعی صنعت، عسکری قوت اور جدید ٹیکنالوجی
-
پاکستان: نیوکلیئر ڈیٹرنٹ صلاحیت اور وسیع عسکری استعداد
یہی وہ امتزاج ہے جو اس معاہدے کو محض روایتی فوجی تعاون سے آگے لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس معاہدے میں تینوں ممالک کی صلاحیتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں جو علاقائی طاقت کے توازن کے حوالے سے انتہائی اہم ہے۔
کیا یہ ‘اسلامی نیٹو’ کی ابتدا ہے؟
یہ سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے کہ کیا مکہ دفاعی معاہدہ مستقبل میں کسی وسیع تر اسلامی فوجی اتحاد کی بنیاد بن سکتا ہے؟
اس مرحلے پر محتاط جواب یہی ہے کہ اسے فوری طور پر ‘اسلامی نیٹو’ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ نیٹو جیسا اتحاد ایک مضبوط ادارہ جاتی ڈھانچے، مستقل کمانڈ، مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی، مربوط فوجی ڈھانچے اور طویل المدتی سیاسی اتفاقِ رائے کا تقاضا کرتا ہے۔ بڑے اتحاد ہمیشہ ایک ہی دن مکمل شکل میں وجود میں نہیں آتے، ان کی ابتدا اعتماد سازی، مشترکہ مفادات، دفاعی تعاون، فوجی مشقوں، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور سیاسی مشاورت سے ہوتی ہے۔ اگر ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب اپنے موجودہ معاہدے کو مستقل ادارہ جاتی شکل دینے میں کامیاب رہتے ہیں تو یہ مستقبل کے وسیع تر اسلامی دفاعی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
قطر، کویت، مصر اور دیگر ممالک کی شمولیت؟
اتحاد کی پہلی اینٹ رکھنے کے بعد جلد ہی خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر اہم ممالک بھی اس تعاون کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اگر قطر، کویت یا مصر جیسے ممالک اگلے مرحلے میں اس دفاعی فریم ورک کے قریب آتے ہیں تو اس کے جغرافیائی اور تزویراتی اثرات کہیں وسیع ہو جائیں گے۔
-
قطر: خلیج میں ایک اہم سیاسی اور تزویراتی مرکز ہے، جس کے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات ہیں۔ اگلے مرحلے میں سب سے پہلے اس معاہدے پر دستخط کرنے والا ملک ہو سکتا ہے۔
-
کویت: خلیجی سلامتی کے نظام میں اہم حیثیت رکھتا ہے، جس نے حال ہی میں پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کیا ہے اور اب وہ اس معاہدے پر بھی جلد دستخط کر سکتا ہے۔
-
مصر: عرب دنیا کی سب سے بڑی آبادی اور اہم ترین عسکری قوتوں میں شمار ہوتا ہے۔
ان تینوں ممالک کی اگلے مرحلے میں شمولیت اس تعاون کو تین ممالک کے محدود دفاعی انتظام سے نکال کر ایک وسیع تر علاقائی سلامتی کے پلیٹ فارم کی سمت لے جا سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کا سلامتی کا خلا
مکہ معاہدے کا ایک اہم پہلو مشرقِ وسطیٰ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران پیدا ہونے والا سلامتی کا بحران ہے۔ خطے کے ممالک نے طویل عرصے تک اپنی سلامتی کے لیے بڑی بیرونی طاقتوں پر انحصار کیا۔ امریکا خلیج اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک اہم سلامتی فراہم کرنے والی قوت رہا ہے، لیکن حالیہ جنگوں، علاقائی کشیدگی اور بدلتی ہوئی عالمی سیاست نے خلیجی ممالک کے سامنے یہ سوال دوبارہ کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ان کی سلامتی کا مستقل انحصار کسی ایک بیرونی طاقت کی ضمانتوں پر ہونا چاہیے؟
یہ سوال امریکا سے مکمل علیحدگی کا نہیں بلکہ تزویراتی تنوع کا ہے۔ سعودی عرب اور خطے کے دوسرے ممالک شاید اب یہ چاہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے اپنی سلامتی کے لیے اضافی راستے بھی موجود رہیں۔ مکہ معاہدے کو اسی وسیع تر رجحان کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔
اس معاہدے کا سب سے اہم پیغام یہ ہے کہ مسلم دنیا اب اپنی سلامتی کے لیے صرف بیرونی ضمانتوں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنی داخلی صلاحیتوں کو بھی منظم کرنا چاہتی ہے۔ یہ تبدیلی کسی ایک ملک کے خلاف محاذ آرائی سے زیادہ خود انحصار دفاعی حکمتِ عملی کا تصور ہے۔
پاکستان: اس نئے تزویراتی تصور کا مرکزی ستون
اس معاہدے میں پاکستان کی حیثیت منفرد ہے۔ پاکستان ایک جوہری طاقت ہے، اس کی فوج کو کئی دہائیوں کا عملی عسکری تجربہ حاصل ہے اور اس کا جغرافیہ جنوبی ایشیا، چین، وسطی ایشیا، ایران اور خلیج کے درمیان ایک اہم رابطہ فراہم کرتا ہے۔
پاکستان اور ترکیہ پہلے ہی دفاعی شعبے میں قریبی تعاون رکھتے ہیں۔ اگر سعودی عرب اس تعاون میں بڑے پیمانے پر معاشی اور مالی وسائل شامل کرتا ہے تو تینوں ممالک کے درمیان دفاعی صنعت، مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی، تربیت اور پیداوار کے نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کے لیے بھی یہ معاہدہ محض سفارتی کامیابی نہیں ہوگا، بلکہ اس سے اسے مسلم دنیا کے وسیع تر دفاعی ڈھانچے میں ایک مرکزی کردار ادا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔
ترکیہ کے لیے معاہدے کی اہمیت
ترکیہ اس معاہدے کا شاید سب سے پیچیدہ اور منفرد فریق ہے۔ ایک طرف ترکیہ نیٹو کا رکن ہے اور مغربی سلامتی کے نظام کا حصہ ہے، دوسری طرف انقرہ گزشتہ برسوں میں روس، ایشیا، خلیج، وسطی ایشیا اور مسلم دنیا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی وسیع کرتا رہا ہے۔
ترکیہ کی دفاعی صنعت نے اسے صرف ایک خریدار ملک کے بجائے دفاعی ٹیکنالوجی کے اہم برآمد کنندہ کی حیثیت دی ہے۔ ڈرونز، فضائی نظام، بحری ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں اس کی صلاحیتیں مسلم دنیا کے لیے بھی قابلِ توجہ ہیں۔
چنانچہ سعودی مالی وسائل اور پاکستانی عسکری تجربے کے ساتھ ترکیہ کی دفاعی صنعتی صلاحیت مل کر ایک ایسے دفاعی تعاون کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے جس میں مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی، تربیت، انٹیلی جنس تعاون اور فوجی مشقیں شامل ہوں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں معاہدہ صرف ‘دفاع’ سے نکل کر دفاعی صنعت اور تزویراتی خود انحصاری کا سوال بن جاتا ہے۔
سعودی عرب: مالی طاقت سے تزویراتی طاقت تک
سعودی عرب کے لیے اس معاہدے کی اہمیت بھی غیر معمولی ہے۔ سعودی عرب کے پاس دفاعی نظام پر خرچ کرنے کی غیر معمولی مالی صلاحیت ہے، لیکن جدید دنیا میں محض دفاعی سازوسامان خرید لینا کافی نہیں ہوتا۔ اصل طاقت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی ملک کے پاس ٹیکنالوجی، تربیت، مقامی پیداوار، تحقیق، انسانی وسائل اور مشترکہ دفاعی منصوبہ بندی کا اپنا نظام بھی موجود ہو۔ ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ تعاون سعودی عرب کو یہی راستہ فراہم کر سکتا ہے۔
اگر سعودی سرمایہ ترکیہ اور پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ ملتا ہے تو تینوں ممالک مشترکہ دفاعی منصوبوں، تحقیق اور پیداوار کے ایسے ماڈل تشکیل دے سکتے ہیں جو طویل مدت میں مسلم دنیا کی دفاعی خود انحصاری کا ذریعہ بنیں۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو مکہ معاہدہ صرف فوجی نہیں بلکہ مستقبل میں دفاعی صنعتی شراکت داری کا آغاز بھی بن سکتا ہے۔
اسرائیل اور بھارت میں بوکھلاہٹ
ریاض، انقرہ اور اسلام آباد کے درمیان طے پانے والے مکہ دفاعی معاہدے نے عالمی سیاست، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے جیو پولیٹیکل منظر نامے پر ایک ایسا دھماکہ کیا ہے جس کے صدماتی جھٹکے تل ابیب کے ملٹری ہیڈ کوارٹرز اور نئی دہلی کے ساؤتھ بلاک میں برابر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے دفاعی اور انٹیلی جنس ادارے (موساد اور را) اس غیر متوقع سہ فریقی بلاک کی ساخت اور اس کے نتائج پر سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔
اسرائیلی اور بھارتی دفاعی ماہرین کے نزدیک یہ محض ایک سفارتی پیش رفت نہیں بلکہ ان کی دہائیوں پر محیط علاقائی حکمتِ عملی کی یکلخت ناکامی کا کھلم کھلا اعلان ہے۔
تل ابیب کا خوف: موساد کی تشویش اور ‘اسلامی نیوکلیئر شیلڈ’
اسرائیلی عسکری تجزیہ کاروں اور انٹیلی جنس جریدوں کی رپورٹس کے مطابق، تل ابیب کا ڈراؤنا خواب پاکستان کی نیوکلیئر ڈیٹرنٹ صلاحیت اور ترکیہ کی دفاعی صنعت کا خلیج فارس کے مالیاتی وسائل کے ساتھ مل جانا ہے۔
-
پاکستان کا ایٹمی جلال اور خلیجی تحفظ: اسرائیل ہمیشہ سے پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو ایک ‘تزویراتی خطرہ’ مانتا رہا ہے۔ موساد کے ماہرین کی تازہ ترین تشویش یہ ہے کہ اس معاہدے کے تحت پاکستان کی ایٹمی سیکیورٹی کی چھتری باضابطہ یا غیر رسمی طور پر خلیجی ممالک اور ترکیہ کو میسر آ سکتی ہے۔ اس سے اسرائیل کی خطے میں روایتی اور غیر روایتی تکنیکی برتری (Qualitative Military Edge) متاثر ہو سکتی ہے۔
-
عرب-اسرائیل تعلقات کے معاہدوں کا تناظر: اسرائیل جو ابراہیمی معاہدوں (Abraham Accords) کے ذریعے عرب دنیا میں اپنے اثر و رسوخ اور ایران کے خلاف ایک بلاک بنانے کی کوشش کر رہا تھا، اس معاہدے نے ان کے نقشوں پر اثر ڈالا ہے۔ اسرائیلی دفاعی ماہرین تسلیم کر رہے ہیں کہ اب سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو اپنی سیکیورٹی کے لیے تل ابیب یا واشنگٹن پر مکمل انحصار کی ضرورت نہیں رہی۔
-
ترکیہ-پاکستان ملٹری پروڈکشن: اسرائیلی فضائیہ (IAF) کے لیے سب سے بڑا دردِ سر ترکیہ کے جدید ترین ڈرونز، ایئر ڈیفنس سسٹمز اور پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی کا امتزاج ہے، جو کسی بھی معرکے میں جدید ترین دفاعی نظام کو ناکارہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
نئی دہلی کی تشویش
بھارتی عسکری اور سفارتی ایوانوں میں بھی اس معاہدے کے بعد ہلچل مچ چکی ہے۔ بھارت کا جیو پولیٹیکل بیانیہ اس مفروضے پر قائم تھا کہ اس نے پاکستان کو خلیجی دنیا سے کاٹ دیا ہے اور اپنے معاشی حجم کے بل بوتے پر خلیجی ممالک کو اسلام آباد سے دور کر دیا ہے، لیکن مکہ معاہدے نے اس تاثر کو زائل کر دیا ہے۔
-
کشمیر پر تزویراتی اثرات: بھارتی سیکیورٹی تھنک ٹینکس کا ماننا ہے کہ ریاض اور انقرہ کی طرف سے اسلام آباد کا کھلم کھلا دفاع بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی قسم کے جارحانہ ملٹری ایڈونچر سے روکے گا۔ اگر بھارت نے پاکستان پر کوئی جارحیت کی، تو اسے صرف اسلام آباد سے نہیں بلکہ انقرہ کی ٹیکنالوجی اور ریاض کے معاشی و سفارتی محاذ کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔
-
دو محاذوں کی جنگ کا نیا روپ: بھارت اب تک چین اور پاکستان کے ‘دو محاذوں کی جنگ’ (Two-Front War) سے محتاط تھا، لیکن اس معاہدے نے بھارت کے سامنے ایک ‘سہ فریقی مسلم بلاک’ کھڑا کر دیا ہے۔ بھارتی دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بحرِ ہند اور عرب سمندر میں ترکیہ، پاکستان اور سعودی بحریہ کا ممکنہ مشترکہ گشت بھارت کی بحری ناکہ بندی (Naval Blockade) کی حکمتِ عملی کو ناکام بنا سکتا ہے۔
-
سفارتی تنہائی کا خدشہ: بھارتی میڈیا میں بھی خارجہ پالیسی پر بحث جاری ہے۔ بھارتی جریدوں کے مطابق اسرائیل کے ساتھ حد سے زیادہ قربت نے عرب دنیا کو بھارت سے متنفر کر کے پاکستان کی گود میں ڈال دیا ہے۔
تل ابیب اور نئی دہلی کا مشترکہ محور
انٹیلی جنس رپورٹس اشارہ کرتی ہیں کہ اس سہ فریقی بلاک سے نمٹنے کے لیے اسرائیل اور بھارت اب پردے کے پیچھے ایک نیا خفیا گٹھ جوڑ بنا رہے ہیں۔
-
مشترکہ انٹیلی جنس شیئرنگ: موساد اور ‘را’ کے درمیان پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ دفاعی تحقیق اور میزائل پروگراموں سے متعلق ڈیٹا کا تبادلہ تیز کر دیا گیا ہے۔
-
واشنگٹن میں لابی کی دوڑ: بھارتی اور اسرائیلی لابی ز امریکی کانگریس پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ ترکیہ اور پاکستان پر معاشی و عسکری پابندیاں عائد کرے تاکہ اس معاہدے کو عملی جامہ پہنانے سے روکا جا سکے۔
حتمی حقیقت: نیا تزویراتی توازن
تمام تر سازشوں اور تشویش کے باوجود، حقیقت یہی ہے کہ مکہ دفاعی معاہدے نے طاقت کا توازن بدل کر رکھ دیا ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا یہ اتحاد جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک ایسا طاقتور دفاعی فریم ورک بن کر سامنے آیا ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
امریکا کے لیے پیغام
امریکا کے لیے مکہ دفاعی معاہدہ ایک پیچیدہ سفارتی حقیقت ہے۔ تینوں ممالک میں سے کوئی بھی امریکا سے مکمل طور پر منقطع نہیں۔ پاکستان اور امریکا کے دیرینہ تعلقات ہیں، سعودی عرب واشنگٹن کا اہم شراکت دار ہے اور ترکیہ نیٹو کا رکن ہے۔ اس لیے اس معاہدے کو براہِ راست امریکا مخالف اتحاد کہنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔
لیکن واشنگٹن کے لیے ایک اہم پیغام ضرور موجود ہے کہ اس کے روایتی شراکت دار اپنی سلامتی کے لیے متبادل اور اضافی راستے تلاش کر رہے ہیں۔ یہ امریکی اثر و رسوخ کے خاتمے کا اعلان نہیں بلکہ امریکی انحصار میں کمی کا امکان ہے۔ اگر یہ رجحان بڑھتا ہے تو امریکا کو بھی مشرقِ وسطیٰ میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی۔
یورپ اور بدلتا ہوا عالمی نظام
یورپ بھی اس تبدیلی کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔ دنیا تیزی سے کثیر قطبی نظام (Multipolar World) کی طرف بڑھ رہی ہے۔ سرد جنگ کے بعد قائم ہونے والا یک طرفہ عالمی طاقت کا تصور کمزور پڑ رہا ہے اور مختلف خطے اپنی تزویراتی خود مختاری کے لیے نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
یورپ خود اس سوال پر غور کر رہا ہے کہ اسے اپنی سلامتی کے لیے امریکا پر کس حد تک انحصار جاری رکھنا چاہیے۔ ایسے میں ترکیہ کا ایک نئے مسلم دفاعی فریم ورک میں مرکزی کردار یورپ کے لیے بھی اہم تزویراتی سوالات پیدا کرتا ہے۔ یوں مکہ معاہدہ صرف مشرقِ وسطیٰ یا عالمِ اسلام کی خبر نہیں، بلکہ یہ ابھرتے ہوئے کثیر قطبی عالمی نظام کی ایک علامت بھی بن سکتا ہے۔
ایران کے لیے تزویراتی پیغام
اس معاہدے کا ایک پہلو ایران سے متعلق بھی ہے۔ اگر یہ دفاعی تعاون مستقبل میں وسیع ہوتا ہے تو ایران کے لیے بھی خطے کے بدلتے ہوئے طاقت کے توازن کا حساب دوبارہ لگانا پڑے گا۔ تاہم یہ ضروری ہے کہ اس نئے دفاعی تصور کو ایران مخالف اتحاد نہ بنایا جائے۔
مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی تنازعات کا شکار ہے۔ اگر نیا دفاعی اتحاد کسی ایک ملک کے خلاف بننے کے بجائے اجتماعی دفاع، سرحدی خودمختاری اور علاقائی امن کے اصول پر قائم ہوتا ہے تو اس کی قبولیت کہیں زیادہ ہوگی۔ اسلامی دنیا کو ایک ایسے اتحاد کی ضرورت ہے جو دشمن پیدا کرنے کے بجائے جنگ کے امکانات کم کرے۔
اصل امتحان اب شروع ہوا ہے
کسی بھی معاہدے کی اصل اہمیت دستخط کے دن نہیں بلکہ اس کے بعد کے اقدامات سے طے ہوتی ہے۔ اگر مکہ معاہدہ صرف ایک اعلامیہ بن کر رہ گیا تو اس کی تاریخی اہمیت محدود ہوگی، لیکن اگر تینوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں، دفاعی پیداوار، انٹیلی جنس تعاون، سائبر سیکیورٹی، فضائی دفاع، بحری تعاون، ڈرون ٹیکنالوجی، فوجی تربیت اور دفاعی تحقیق کے مستقل منصوبے شروع کرتے ہیں تو یہ معاہدہ حقیقی معنوں میں ایک نئے دفاعی نظام کی بنیاد بن سکتا ہے۔
اس کے لیے مستقل ادارہ جاتی ڈھانچے کی ضرورت ہوگی:
-
مشترکہ دفاعی کونسل
-
وزرائے دفاع کی باقاعدہ ملاقاتیں
-
مشترکہ فوجی مشقیں
-
دفاعی صنعت کے لیے مشترکہ منصوبے
-
ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور مشترکہ تحقیقاتی مراکز
-
بحران کے وقت فوری مشاورت کا نظام
اور پھر اگلا مرحلہ نئے اراکین کا ہو سکتا ہے۔ اگر قطر، کویت، مصر اور دیگر مسلم ممالک بتدریج اس نظام سے جڑتے ہیں تو ایک ایسا نیٹ ورک تشکیل پا سکتا ہے جو اسلامی دنیا کے مشترکہ سلامتی کے نظام کی شکل اختیار کر لے۔
کیا یہ واقعی عالمِ اسلام کے لیے تاریخی موڑ ہے؟
مکہ دفاعی معاہدے نے ایک ایسا امکان پیدا کر دیا ہے جو چند سال پہلے بھی زیادہ تر سیاسی مباحث تک محدود تھا۔ مسلم دنیا کے پاس آبادی ہے، قدرتی وسائل ہیں، جغرافیائی اہمیت ہے، مالی وسائل ہیں، بڑی مسلح افواج ہیں، دفاعی صنعتیں ہیں اور بعض ممالک کے پاس جدید ترین عسکری ٹیکنالوجی بھی ہے۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ یہ طاقتیں الگ الگ موجود ہیں۔ اگر انہیں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیا جائے تو تصویر بدل سکتی ہے۔ مکہ معاہدہ اسی امکان کا پہلا عملی نمونہ بن سکتا ہے۔
لیکن اس کے لیے تینوں ممالک کو سب سے پہلے ایک دوسرے پر مکمل اعتماد پیدا کرنا ہوگا۔ انہیں اپنے دوطرفہ اور سہ فریقی اختلافات کو وسیع تر مقصد کے تابع رکھنا ہوگا۔ انہیں یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ یہ اتحاد کسی مذہبی، مسلکی یا علاقائی کشمکش کا ذریعہ نہیں بلکہ خودمختاری، دفاع اور امن کا پلیٹ فارم ہے۔
مکہ سے اٹھنے والی آواز کا اثر
مکہ مکرمہ سے شروع ہونے والے اس نئے دفاعی سفر کی اصل اہمیت آنے والے برسوں میں سامنے آئے گی۔ اگر یہ معاہدہ تین ملکوں تک محدود رہتا ہے تو یہ ایک اہم سہ فریقی دفاعی معاہدہ ہوگا۔ لیکن اگر اس کے دروازے مستقبل میں دیگر مسلم ممالک کے لیے کھلتے ہیں، اگر مشترکہ دفاعی صنعت وجود میں آتی ہے، اگر فوجی تربیت اور ٹیکنالوجی کا تبادلہ مستقل نظام بنتا ہے اور اس سارے عمل کو ایک واضح ادارہ جاتی ڈھانچہ مل جاتا ہے تو تاریخ مکہ دفاعی معاہدے کو ایک نئے اسلامی تزویراتی عہد کے نقطۂ آغاز کے طور پر یاد رکھے گی۔
یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ کیا عالمِ اسلام ‘اسلامی نیٹو’ بنا سکتا ہے؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مسلم دنیا اپنی موجودہ منتشر طاقت کو ایک مربوط، ذمہ دار اور قابلِ اعتماد اجتماعی سلامتی کے نظام میں تبدیل کر سکتی ہے؟
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب نے اس سمت میں پہلا قدم اٹھا دیا ہے۔ ایک کے پاس نیوکلیئر ڈیٹرنٹ صلاحیت اور وسیع عسکری قوت ہے، دوسرے کے پاس جدید دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی ہے، جبکہ تیسرے کے پاس مالی طاقت، تزویراتی جغرافیہ اور عالمِ اسلام میں غیر معمولی مذہبی و سیاسی مقام ہے۔ یہ تینوں طاقتیں اگر ایک دوسرے کی قوت بن جائیں تو نتیجہ صرف تین ملکوں کی سلامتی تک محدود نہیں رہ سکتا۔
مکہ کا انتخاب بھی اسی بڑے تصور کی علامت ہے کہ دفاع صرف سرحدوں کا مسئلہ نہیں، بلکہ اجتماعی خودمختاری کا سوال ہے۔ دنیا ایک نئے کثیر قطبی دور میں داخل ہو رہی ہے اور ایسے میں مسلم دنیا کے سامنے بھی یہ تاریخی سوال کھڑا ہے کہ کیا وہ دوسروں کی بنائی ہوئی سلامتی کی چھتری کے نیچے کھڑی رہے گی، یا اپنی طاقت اور وسائل کو ایک مشترکہ دفاعی تصور میں ڈھالے گی؟
مکہ دفاعی معاہدہ اس سوال کا مکمل جواب نہیں، لیکن شاید اس جواب کا پہلا جملہ ضرور ہے۔ اور اگر یہ پہلا جملہ ایک مضبوط اور منظم عمل میں تبدیل ہو گیا تو آنے والے برسوں میں مکہ کا یہ معاہدہ عالمِ اسلام کے لیے اس احساس کی علامت بن سکتا ہے کہ اجتماعی طاقت صرف تعداد میں نہیں، بلکہ اتحادِ ارادہ میں پیدا ہوتی ہے۔




