ایران نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نئی بحری گزرگاہ کے تعین کے لیے عمان کے ساتھ معاہدہ آخری مراحل میں پہنچ گیا ہے۔ تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ آبی گزرگاہ مکمل طور پر اسی وقت کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی دیگر شرائط پوری کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار کو کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق معاہدہ آخری مراحل میں ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر کے مطابق عراقچی نے کہا کہ معاہدے میں نئی شپنگ لین کے استعمال سے متعلق طریقہ کار طے کیا جائے گا۔ یہ راستہ آبنائے کے دوبارہ کھلنے کے بعد تجارتی بحری جہازوں کے لیے استعمال ہوگا۔
تاہم ایرانی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ صرف ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ کافی نہیں ہوگا۔ آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کو بھی ایران کی دیگر شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان اس وقت براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ان کے مطابق تہران اس وقت تک امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع نہیں کرے گا جب تک واشنگٹن جون میں طے پانے والے عبوری معاہدے کی پاسداری نہیں کرتا۔
عراقچی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ ثالثوں کے ذریعے جاری ہے۔
