ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف معاشی جنگ کے اعلان پر سخت ردعمل دیا ہے۔ عراقچی نے کہا ہے کہ امریکی معاشی دباؤ ایران کو شکست نہیں دے سکتا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی پالیسی امریکا کے لیے مزید شکست کا باعث بنے گی۔ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی اقدام کو اپنے ملک کے بحران سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کو غیر معمولی قرضوں اور بڑھتے ہوئے سود کے اخراجات کا سامنا ہے۔عراقچی کے مطابق امریکا ان مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھا رہا ہے۔
عباس عراقچی نے امریکی اقتصادی پابندیوں کو اقتصادی دہشت گردی قرار دیا۔ ان کے مطابق امریکی اقدامات عالمی معیشت کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی پالیسی دنیا کے مختلف ممالک کی خودمختاری کو متاثر کرتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے بیان کے ساتھ امریکی قرضوں سے متعلق ایک خبر بھی شیئر کی۔ اس خبر میں امریکی قومی قرض کے 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا ذکر کیا گیا تھا۔ عراقچی نے اسی تناظر میں امریکی معاشی پالیسی پر سوال اٹھائے۔
