وزیراعظم شہباز شریف نے پمز اسپتال میں سی ٹی کورونری اینجیوگرافی کی سہولت فعال نہ ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی۔
وزیراعظم کی ہدایت پرقائم کمیٹی کی سربراہی سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کریں گے،سیکریٹری ہیلتھ سروسز ڈاکٹرجہانزیب علی، ڈاکٹر نصرت اللہ چوہدری،پروفیسر ندیم حیات، ڈاکٹر عظمت حیات اور عمر فاروق کمیٹی میں شامل ہوں گے۔
وزیراعظم نےکہا کہ کمیٹی تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر حقائق اور ذمہ داران کا تعین کرے گی اور فوری طور پر رپورٹ پیش کرے گی،کمیٹی ضرورت کے مطابق کسی اور رکن کو بھی شامل کرسکے گی۔
انکوائری میں جائزہ لیاجائےگاکہ پمز میں 2022ء سےسی ٹی کورونری اینجیوگرام کی تکنیکی صلاحیت موجود ہونے کے باوجود سہولت فعال کیوں نہیں رہی، مطلوبہ تکنیکی سہولیات،انسانی وسائل اور سافٹ ویئر کی دستیابی بھی جانچی جائے گی۔
کمیٹی 2022ء سے اب تک پمزمیں کیےگئےسی ٹی کورونری اینجیوگرام کے طریقہ کار،تعداد، تاریخوں اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے گی،کارڈیالوجی اور ریڈیالوجی شعبوں کے درمیان ریفرل میکنزم اور باہمی رابطے کی صورتحال بھی دیکھی جائے گی۔
انکوائری کمیٹی اس امرکا بھی جائزہ لےگی کہ آیا پمز کےمریضوں کومعمول کےمطابق سی ٹی کورونری اینجیوگرام کے لیےنجی مراکز ریفرکیاجاتا رہا اور اگر ایسا ہوا تو کیا کسی مخصوص نجی ادارے کو ترجیح دی گئی۔
کمیٹی عدم رابطہ کاری،بدانتظامی یا غفلت کے نتیجےمیں عوامی مفاد کو پہنچنے والے نقصان اور ذمہ دار افسران یا دفاتر کا بھی تعین کرے گی۔
وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ تمام متعلقہ حقائق اور ریکارڈ کی مکمل جانچ کے بعد رپورٹ پیش کی جائے تاکہ قانون اور قواعد کے مطابق مزید کارروائی کی جاسکے۔
