جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومتی وفد کی ملاقات میں احتجاج ملتوی کرنے کی درخواست مسترد کر دی اور کہا کہ دھرنے چلتے رہیں گے تو بات چیت میں مزہ آئے گا، کمیٹی بنادی ہے، اعداوشمار کے حساب سے مذاکرات ہوں گے ۔وفاقی وزیر احسن اقبال اور رانا ثنا نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ حکومت چاہتی ہےعوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے۔
لاہور میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے اور جتنا ممکن ہوسکا عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرے گی ۔ جماعت اسلامی سے کہا ہے کہ وہ اپنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے۔ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے ہیں، حکومت کی بھی یہی کوشش ہے کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملے اور جماعت اسلامی کی بھی خواہش ہے کہ عوام کو آسانی فراہم کی جائے۔ تاہم امریکا، ایران کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات سے سب آگاہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی سے کہا ہے کہ وہ اپنی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دے، حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے اور جتنا ممکن ہوسکا عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرے گی۔ مذاکرات میں حکومت اپنا موقف جماعت اسلامی کے سامنے رکھے گی۔حکومت نہیں چاہتی کہ ملک میں بدامنی ہو جس سے دشمن ملک فائدہ اٹھائے، اس وقت ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، ایسے میں عوامی اجتماعات کو کوئی بھی اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتا ہے، وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر ملک میں امن کے لیے کوشش کریں۔
حافظ نعیم الرحمان ، سربراہ جماعت اسلامی
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کے دھرنوں کو آج 19واں دن ہے، پاکستان میں ابتدا میں تین مقامات سے دھرنے شروع کیے گئے تھے جو اب بڑھ کر تقریباً 15 سے 20 مقامات تک پہنچ چکے ہیں اور ان میں لوگوں کی شرکت مسلسل بڑھ رہی ہے۔جماعت اسلامی نے یہ دھرنے کسی شوق یا ذاتی ایجنڈے کے تحت نہیں دیے، ملک میں جماعت اسلامی کا کوئی انتخاب بھی نہیں ہورہا، ہمارا خالصتاً ایجنڈا عوام کے بڑے مسائل کے ساتھ ساتھ روزمرہ زندگی سے جڑے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ مہنگائی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ہر شخص، ہر خاتون اور ہر بچہ اس سے متاثر ہورہا ہے، لوگوں کے لیے زندگی مشکل ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسٹورنٹس اور بڑے خریداری مراکز میں نظر آنے والے لوگوں کی تعداد پاکستان کی مجموعی آبادی کے تناسب سے چند فیصد سے زیادہ نہیں، جبکہ 90 سے 95 فیصد لوگ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی رپورٹس کے مطابق 40 فیصد سے زیادہ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں، ایسے حالات میں بنیادی سہولیات اور ضروری اشیا کی قیمتیں بھی اگر بہت زیادہ ہوجائیں تو عام آدمی کہاں جائے گا۔موٹر سائیکل چلانے والا ایسا شخص جس کی آمدنی قابل ٹیکس نہیں، وہ ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 35 فیصد تک ٹیکس ادا کر رہا ہے، جس میں تقریباً 80 سے 85 روپے کی لیوی بھی شامل ہے، یہ بڑی زیادتی ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی اس مقصد کے لیے عائد کی گئی تھی کہ اس سے ریفائنریوں کی صلاحیت اور ذخیرہ کرنے کی استعداد میں اضافہ کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں پاکستان کا درآمدی بوجھ کم ہوگا۔پیٹرولیم لیوی کے ذریعے اب تک تقریباً 8 ہزار ارب روپے جمع ہوچکے ہیں، جبکہ حکومت نے گزشتہ سال لیوی کی وصولی کا جو ہدف مقرر کیا تھا، اس سے بھی تقریباً 100 ارب روپے زیادہ جمع کیے گئے اور یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب جنگ جاری تھی۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جنگ اور ہنگامی حالات میں بڑے بڑے معاہدے بھی عارضی طور پر معطل ہوجاتے ہیں، لیکن پاکستان میں بجلی کے ایسے معاہدوں کے تحت ادائیگیاں جاری رہیں جن کے باوجود بجلی پیدا نہیں ہوتی، اسی طرح گیس کی دوبارہ گیس بنانے والے کارخانوں کو بھی روزانہ تقریباً 5 لاکھ 38 ہزار ڈالر ادا کیے جارہے ہیں، حالانکہ اس وقت مطلوبہ مقدار میں گیس درآمد نہیں ہورہی۔
انہوں نے کہا کہ گیس کی دوبارہ گیس بنانے والے کارخانوں سے متعلق معاہدوں پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے، ایسے معاہدے ہونے چاہئیں جن میں استعمال کے مطابق ادائیگی ہو، صرف صلاحیت برقرار رکھنے کی بنیاد پر ادائیگی نہ کی جائے۔حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موجودہ حالات میں عوام پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معیشت کا پہیہ نہیں چلے گا۔
