مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے باعث فلسطینی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق شمالی مغربی کنارے کے بعض دیہات میں اسرائیلی فوج نے بلڈوزروں کے ذریعے مکانات، مویشیوں کے باڑے اور پانی کے ٹینکوں سمیت مختلف املاک کو نقصان پہنچایا۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں جاری ہیں جب خطے میں فلسطینی آبادی کو نقل و حرکت، رہائش اور بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
قصرہ کے علاقے میں بھی فلسطینی خاندانوں کی صورتحال تشویش ناک بتائی گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بعض خاندان کئی ہفتوں سے محصور ہیں اور انہیں انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ درجنوں امدادی کارکنوں کو بھی متاثرہ خاندانوں تک پہنچنے سے روکے جانے کی اطلاعات ہیں۔
قصرہ میں فلسطینی خاندانوں کو پہلے بھی اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیوں کے باعث مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ حالیہ ہفتوں میں علاقے میں گھروں کے محاصرے اور نقل و حرکت پر پابندیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اقوام متحدہ نے مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور انسانی حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے شمالی مغربی کنارے کے تین پناہ گزین کیمپوں کی فلسطینی آبادی کو بڑے پیمانے پر بے دخل کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنوری 2025 سے ان کیمپوں سے 33 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ صورتحال انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے۔
