پاکستان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے کہاہے کہ ہمارے پاس 1500 کلومیٹر کا سمندر ہے ، کراچی سے پشاور تک میدانی علاقہ ہے، چاروں موسم ہیں جنگلات اور معدنیات ہیں لیکن اگر کوئی چیز نہیں ہے تو وہ نظام ہے، تبدیلی ناگزیر ہے اگر اب بھی تبدیلی نہیں لائی جاتی تو پھر ہمیں گورننس کے بحران اور کسانوں کے حال پر انا للہ وانا الہ راجعون پڑھ لینا چاہیے۔ ابھی سب کو ستارہ امتیاز دیا گیا ، مجھے بتائیں کہ پاکستان میں جو کاشتکار پیدوار میں پہلے نمبر پر آئے کسی ایک کاشتکار کو ملاہے ؟
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے گورننس کی بدحالی پر لاہور کی یونیورسٹی آف مینجمنٹ اینڈ سائنسز میں نئے صوبوں سے متعلق ’ قومی پالیسی مکالمے ‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں کاشتکاروں کی نمائندگی کر رہاہوں اور میرا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، میں ایک عام کاشتکار کی زبان استعمال کروں گا جو اس کے آج حالات ہیں، 1992 میں ، میں نے کاشتکاری شروع کی تھی اور میں کپاس کی فصل اگاتاہوں ،کپا س کی پروڈکشن ہمارے ملک میں ایک کروڑ 28 لاکھ بلز تھی، جبکہ بھارت کی ایک کروڑ 10 لاکھ بلز تھی، اس نظام کی وجہ سے آج ہم 55 لاکھ بلز پر آ گئے ہیں اور ہمارا دشمن ملک 4 کروڑ بلز پر چلا گیاہے، آج کاشتکار کے نہ گھر، نہ تعلیم ،نہ صحت اور نہ ہی بچوں کے حالات اچھے ہیں، محسن نقوی سامنے بیٹھے ہیں ، ہم نے مل کر کام کیا تو ایک سال میں ہم نے یہاں پر کاٹن کی پیدوار کو دو گنا کیاہے ، اس کے بعد ہمارا اور حکومت کے درمیان ایک خلا آ گیا ، آج یہی سزا پورا ملک بھگت رہاہے، اس وقت ہماری زراعت کا خسارہ بڑھا ہے وہ 6 بلین ڈالر کا ہے، مجھے تو دکھ ہے کہ ہم نے ایک قدم آگے نہیں بڑھایا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس 1500 کلومیٹر کا سمندر ہے، کراچی سے لے کر پشاور تک میدانی علاقہ ہمارے پاس ہے، چاروں موسم ہیں، دریا، جنگلا ت اور چولستان ہمارے پاس ہے، معدنیات بھی ہمارے پاس ہیں ، اگر کوئی چیز نہیں ہے توہ نظام نہیں ہے، ہمیں تبدیلی لانا ہو گی ہے یہ ناگزیر ہے ، اب بھی نظام میں تبدیلی نہیں لائی جاتی تو ہمیں گورننس کے بحران اور کسانوں کے حال پر انا للہ وانا الہ راجعون پڑھ لینا چاہیے،آپ کے پاس زراعت کے علاوہ اور ہے ہی کیا؟میں پاکستان میں ڈے ای پی ساڑھے 17 ہزار روپے میں خریدتاہوں لیکن بھارت میں کاشتکار کو یہ 4 ہزار 400 پاکستانی روپے میں ملتی ہے، میں یوریا 4600 روپے کا لیتاہوں، میرے دشمن ملک کے کاشتکار کو 884 روپے کا ملتاہے، میرا بجلی کا یونٹ 40 سے 50 روپے کاہے ، بھارت میں روزانہ دس گھنٹے بجلی مفت ملتی ہے ، میں دنیا کا مقابلہ کس طرح کر سکتا ہوں جب پروڈکشن کے اخراجات میں میرے پاس لیول پلیئنگ فیلڈ ہی موجود نہیں ہے، جب مجھے پاکستانی اور انسان ہی تسلیم ہی نہیں کیا جاتا۔ ابھی سب کو ستارہ امتیاز دیا گیا ، مجھے بتائیں کہ پاکستان میں جو کاشتکار پیدوار میں پہلے نمبر پر آئے کسی ایک کاشتکار کو ملاہے ؟ جو دن رات آپ کیلئے کام کرتاہے ، آپ کی خدمت کرتاہے ۔
