اقوام متحدہ کے ایک نئے عالمی نقشے نے بھارت میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ نقشے میں اروناچل پردیش اور اکسائی چن کے گرد مختلف سرحدی لائنیں دکھائی گئی ہیں۔ یہ دونوں علاقے بھارت اور چین کے درمیان دیرینہ سرحدی تنازع کا حصہ ہیں۔ بھارت اروناچل پردیش کو اپنی ریاست قرار دیتا ہے۔ نئی دہلی اکسائی چن کو بھی لداخ کا حصہ سمجھتا ہے۔ چین دونوں علاقوں سے متعلق بھارت کے مؤقف کو تسلیم نہیں کرتا۔
رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ نے یہ نقشہ یکم جولائی 2026 کو جاری کیا تھا۔ نقشے میں اروناچل پردیش کی سرحدیں مختلف انداز میں دکھائی گئی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ریاست کی ناگالینڈ کے ساتھ سرحد نمایاں نہیں کی گئی۔ نقشے میں اروناچل پردیش کے گرد بھارتی اور چینی دعووں سے متعلق لائنیں دکھائی گئی ہیں۔ اکسائی چن کو بھی مختلف سرحدی لائنوں کے درمیان دکھایا گیا ہے۔ اس نقشے نے بھارت میں سیاسی اور سفارتی بحث کو جنم دیا ہے۔
