حکومت کی نئی آٹو پالیسی کا حتمی مسودہ آئی ایم ایف کے ساتھ بھی شیئر کر دیا گیا۔ پالیسی کے نفاذ سے مقامی گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان ہے۔ بکنگ کے بعد گاڑی کی اضافی قیمت اب صارف ادا نہیں کرے گا۔ الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے مختلف مراعات تجویز ہے۔ اہداف پورے کرنے والی کمپنیوں کو مراعات تو خراب کارکردگی پر جرمانہ عائد ہوں گے۔ حکومت کو مجموعی طور پر 1764 ارب روپے کے مالی فواد حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔
پانچ سال کی نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کے گرین سگنل کے بعد حتمی مسودہ آئی ایم ایف کو بھیج دیا گیا۔آٹو سیکٹر کیلئے مختلف مراعات تجویز ہے۔ عام گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی مرحلہ وار 80 فیصد تک کم کی جائے گی۔ الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی، کیپیٹل ویلیو اور ودہولڈنگ ٹیکس معاف کرنے کی تجویز۔ چارجنگ اسٹیشن کے سامان پر بھی صرف ایک فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ہوگی۔
الیکٹرک گاڑیوں کیلئے قرض کی حد ایک کروڑ اور مدت پانچ سال کرنے کی سفارش ہے۔ گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں کیلئے 6 اصول بھی طے کئے گئے ہیں۔ اب گاڑی کی بکنگ کے بعد قیمت بڑھنے کی ذمہ دار کمپنی ہوگی۔ صارف کو بُکنگ کے وقت ہی ڈیلیوری کی تاریخ بتانا بھی لازم ہوگا۔
ٹریکٹر، موٹر سائیکل، رکشہ ساز کمپنیوں اور آٹو پارٹس کیلئے برآمدی ہدف 15 فیصد اور کاروں کیلئے 20 فیصد تجویز ہے۔ اہداف پورے نہ کرنے پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی۔
حکومت کو پالیسی سے 5 سال میں 288 ارب خالص منافع اور اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 485 ارب روپے ملنے کی توقع ہے۔ جبکہ ایندھن کی درآمد میں 1226 ارب روپے سے زائد کی بچت بھی متوقع ہے۔
