نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی نے پالیسی واضح کردی، ن لیگ جب فیصلہ کرے گی تو سب کے سامنے ہوگا: رانا ثناءاللہ

وزیراعظم کے مشیر اور سینیٹر رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ اگر میں کہوں صوبے بنیں گے یا نہیں بنیں گے تو میں پارلیمنٹ کو بائی پاس کر رہا ہوں، حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی، ن لیگ جب نئےصوبوں پرفیصلہ کرے گی تو سب  کے سامنے ہو گا، پیپلز پارٹی نے اوور ری ایکٹ کیا, پیپلزپارٹی نے اپنی پالیسی واضح کر دی ہے، اگر ریفرنڈم کا فیصلہ ہوتا بھی ہے تو اس کی اجازت پارلیمنٹ نے دینی ہے۔

وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی قیادت شہباز شریف اور فیلڈمارشل کی قیادت میں اس ملک کی ترقی کے لئے یکجا ہے، اگر امریکہ ایران جنگ نہ ہوتی تویہ گروتھ گلی محلوں تک نظر آتی، پوری دنیا میں پاکستان کو جو عزت اور مقام ملا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

انہوں نے کہا کہ 9مئی تحریک انصاف کی حماکت تھی ان کواس پرمعافی مانگنی چاہیے تھی، ان کو موقع بھی دیا گیا کہ اپنی غلطی پر جواب دیں، جولوگ بلوچستان اور کے پی کے میں دہشتگردی کی کاروائیوں میں ملوث ہیں، ان لوگوں کا بھی اس ایونٹ سے فائدہ اٹھانے کا ارادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر میں کہوں صوبے بنیں گے یا نہیں بنیں گے تو میں پارلیمنٹ کو بائی پاس کر رہا ہوں، حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی،پیٹرولیم کی صورتحال کو علی پرویزملک نے کئی مرتبہ عوام کے سامنے رکھا ہے، اگرملک ہنگامہ آرائی کا شکار ہوتا ہےتو کس کو نقصان ہو گا، قیمتیں جو بڑھ رہی ہیں اس کی وجہ امریکہ اور ایران کی جنگ ہے۔

رانا ثناء اللہ کا کہناتھا کہ اس جنگ کو روکنے کی کوشش جتنی پاکستان نے کی ہے کسی نے نہیں کی، قیمتوں کے بڑھنے میں پاکستان کا کوئی قصور نہیں ہے، مولانافضل الرحمان اور جماعت اسلامی کا احتجاج اپنی جگہ پر ضرورہے، محسن نقوی ہماری کابینہ کے معزز ممبر ہیں، سیکیورٹی کی صورتحال پر محسن نقوی کے ساتھ میٹنگز ہوئی ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ اپوزیشن لیڈر یہ فرما رہے ہیں کہ میں وزیراعظم آفس نہیں جانا چاہتا،وزیراعظم آفس ریاست کی بلڈنگ ہے، پیپلزپارٹی نے اپنی پالیسی واضح کردی ہے،ن لیگ جب نئے صوبوں پر فیصلہ کرے گی تو سب کے سامنے ہو گا۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ پنجاب میں صوبائی اسمبلی چاہے تو ایکٹ میں تبدیلی کر سکتی ہے،نوازشریف نے کمیٹی بنائی،اس میں تفصیلی بات چیت کے بعد ایکٹ بنا،ایکٹ گورنمنٹ کو بھیجا گیا،وہ ایکٹ کی شکل میں موجودہے، بلدیاتی ادارے ہونے ہی عوام کے قریب چاہیئں، بڑےشہروں میں میونسپل کمیٹیوں کو عوام کے قریب لایا گیا ہے، اگر اختیارات کم ہیں تو اختیارات زیادہ دیے جا سکتے ہیں۔

سینیٹر کا کہناتھا کہ اگرر یفرنڈم کا فیصلہ ہوتا بھی ہے تو اس کی اجازت پارلیمنٹ نے دینی ہے،جماعت اسلامی ایک سیاسی جماعت ہے،اس نے جو بھی دھرنے یا لانگ مارچ کیا وہ آئینی اور قانونی طریقے سے ہوتا ہے،جماعت اسلامی کا پرامن احتجاج ہو گا، پیٹرول کی قیمت کم ہونے کی جتنی خواہش جماعت اسلامی کی اتنی ہی وزیراعظم کی ہے، حکومت سنجیدگی سے اس معاملے پر غور کر رہی ہے، جماعت اسلامی والے خود کو مشقت میں نہ ڈالیں، ہم نےجماعت اسلامی سے کہا ہے اس کو 2 ہفتے کے لئے مؤخر کریں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے