وزارت خزانہ نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف پروگرام صرف وزارت خزانہ کا نہیں، بلکہ پوری حکومت کا ہے، پیٹرولیم لیوی آمدن حاصل کرنےکا صرف ایک ذریعہ ہے۔ پیٹرول کی قیمتوں اورلیوی سےمتعلق اصلاحات آئی ایم ایف پروگرام کا حصہ ہیں۔ جبکہ آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد میں متعلقہ وفاقی اورصوبائی اداروں کی ذمہ داریاں واضح ہیں۔
وزارت خزانہ نے آئی ایم ایف پروگرام سےمتعلق بعض تاثر کی وضاحت کردی، اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام میں وفاقی وصوبائی ادارے اپنی ذمہ داریوں کےتحت کام کرتےہیں۔ پیٹرولیم لیوی آئی ایم ایف پروگرام کامرکزی نکتہ نہیں، ایف بی آرکی آمدن بڑھانا اور ٹیکس دائرہ وسیع کرنا پروگرام کی اہم ترجیحات ہیں۔ پروگرام میں عالمی قیمتوں کےمطابق ایندھن کی قیمتوں میں باقاعدہ ردوبدل شامل ہے۔ پیٹرولیم لیوی کے ذریعے اضافی کاربن لیوی بھی اصلاحاتی پروگرام کا حصہ ہے۔
اعلامیے کےمطابق مہنگائی، بے روزگاری اورکم شرح نمو کوصرف پیٹرولیم لیوی سے جوڑنا درست نہیں۔ اس پر عالمی و ملکی حالات سمیت کئی عوامل اثرانداز ہوتے ہیں۔ وزارت خزانہ کے مطابق مالی استحکام کومعاشی ترقی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ آئی ایم ایف پروگرام صرف مالی اہداف اوراعداد وشمار تک محدود نہیں۔ پروگرام میں کم آمدن والےطبقے کےتحفظ کیلئے سماجی اقدامات شامل ہیں۔ ٹارگٹٹد پیٹرول ریلیف بھی کم آمدن والے طبقے کے تحفظ کا اقدام ہے۔
