پاکستان ریلوے کے ساتھ ساتھ ہوائی جہاز بھی وقت کی پابندی ہوا میں اڑانے لگے۔ دو سالہ کارکردگی رپورٹ میں کوئی ایئرلائن بروقت روانگی کی مقررہ شرط پوری نہ کرسکی۔ 2026 میں صرف 67.5 فیصد پروازیں وقت پر روانہ ہوئیں۔
پاکستان میں مسافر ہوائی جہازوں کی روانگی میں تاخیر معمول بن گئی۔ تمام ایئرلائنز کی دو سالہ کارکردگی رپورٹ کے مطابق 2026 میں کوئی ایئرلائن بروقت روانگی کی قانونی شرط پوری نہ کرسکی۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے دوران صرف 67.5 فیصد پروازیں وقت پر روانہ ہوئیں، جبکہ ایک سال پہلے بروقت روانگی کی شرح 68.4فیصد تھی۔ 2024 میں ملک کی پانچ ایئرلائنز کی بہترہ اعشاریہ چھ فیصد پروازیں بروقت روانہ ہوئی تھیں۔
قانون کے تحت ایئرلائنز کیلئے 80 فیصد پروازیں بروقت روانہ کرنا لازم ہے۔ پروازوں کی منسوخی کے قانون پر 2024 میں چار میں سے دو ایئرلائنز مقررہ معیار پر پوری اتریں۔ معیار پر پورا نہ اترنے والی ایئرلائنز کے خلاف سول ایوی ایشن نے کارروائی شروع کردی ہے۔
سی اے اے کے مطابق قانون پر عمل نہ ہونے پر شوکاز نوٹس اور جرمانے کیے جارہے ہیں، پرواز میں تاخیر یا منسوخی پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاتا ہے، جبکہ جرمانے کی رقم اب ایئرلائن کے ڈپازٹ اکاؤنٹ سے کاٹی جاتی ہے۔
