پاکستان روس تجارت کے فروغ کے لیے ویزا سہولت، براہِ راست فضائی رابطے اور مؤثر لاجسٹکس اہم ہیں، فیصل نیاز ترمذی

روس میں پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی نے MGIMO انٹرنیشنل بزنس ٹرینڈز فورم 2026 میں شرکت اور گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، دنیا میں طاقت کے نئے مراکز ابھرنے کے ساتھ عالمی تجارت کے نئے رجحانات بھی تشکیل پا رہے ہیں۔

پاکستانی سفیر کا کہناتھا کہ بدلتے عالمی حالات میں مضبوط شراکت داری اور علاقائی روابط کی اہمیت بڑھ رہی ہے، پاکستان روس تجارت کے فروغ کے لیے ویزا سہولت، براہِ راست فضائی رابطے اور مؤثر لاجسٹکس اہم ہیں، SCO، D-8، SAARC اور ECO علاقائی اقتصادی تعاون اور روابط کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، علاقائی تنظیموں کے پلیٹ فارمز کو تجارت، ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس کے فروغ کے لیے مؤثر طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان قدرتی رابطہ فراہم کرتا ہے، پاکستان کی جغرافیائی حیثیت علاقائی تجارت کے لیے اہم زمینی اور بحری راستے فراہم کرتی ہے، پاکستان کی تقریباً 68 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر ہے، نوجوان آبادی پاکستان کے لیے ایک بڑی قوت کے ساتھ اہم ذمہ داری بھی ہے، پائیدار اقتصادی ترقی اور جدت کے لیے کاروبار اور سائنس کو ایک دوسرے کے قریب لانا ضروری ہے۔

فیصل نیاز ترمذی نے کہا کہ پاکستان اور روس کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، روسی وزیرِ داخلہ کا اکتوبر میں دورۂ پاکستان دونوں ممالک کے بڑھتے اعلیٰ سطحی روابط کا مظہر ہے۔

سفیر فیصل نیاز ترمذی نے فورم کے موقع پر مختلف ممالک کے سفرا، روسی کاروباری و علمی نمائندوں اور MGIMO کے طلبہ سے ملاقات کی ، انہوں  نے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ شراکت داری، علاقائی اقتصادی تعاون اور عوامی روابط کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے