وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی نہ لگنے کی اب کوئی گنجائش نہیں بچی،آپ لوگ بتائیں کہ اب کیا گنجائش رہتی ہے؟مولانا فضل الرحمان سے پوچھیں کہ میں نے کتنی کوششیں کی؟میں نے آخری حد تک کوشش کی لیکن میرے پاس کچھ نہیں رہا،آپ بیرسٹر گوہر سے بھی پوچھ لیں کہ میں نے کیا کچھ نہیں کیا؟
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خودکشی کرنے والی نوجوان طالبہ کے اہل خانہ سے ان کے گھر پر ملاقات کی اور پھر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات یقینی بنانے آئے ہیں کہ ملوث شخص بہت جلد پکڑا جائے گا،انھیں رقم واپس دلانے کے ساتھ ملزمان کو نشان عبرت بنائیں گے،ملزم نے جس طرح جعلسازی کی ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے،پولیس، ایف ائی اے سمیت تمام ادارے اپنا کام کررہے ہیں،کل چند گھنٹوں کے لیے ترکی گیا تھا،یورپی یونین نے مانا کہ غیرقانونی امیگریشن کا مسئلہ 70فیصد حل ہوا،ماضی سے بہت فرق پڑ چکا ہے،این سی سی آئی اے کام کررہی ہے۔
محسن نقوی نے کہا کہ پورے پنجاب کیلئے 61 افراد ہیں،دفاتر ہیں نہ ہی بیٹھنے کی کوئی جگہ،کیا پورے پنجاب کو صرف 61 لوگوں سے کنٹرول کیا جاسکتا ہے؟وزیراعظم نے تھوڑی دیر قبل بلوا کر کہا کہ فوری ملزم گرفتار کرو،چاہتا ہوں جو بھی شکایت آئے فوری حل کی جائے،تھوڑا سا وقت دے دیں، اس وقت تحقیقات جاری ہیں،اس طرح کی شکایات کو پاک آئی ڈی پر لے جارہے ہیں،ڈی جی این سی سی آئی اے بہت جلد آپ کو اپ ڈیٹ کریں گے،لڑکی کے ساتھ فراڈ کرنے والا ایجنٹ نہیں بلکہ نوسرباز تھا،میں اس کیس کی ذاتی طور پر خود نگرانی کروں گا،بہت ساری چیزیں جلد آپ کے سامنے آجائے گی۔
