وزیراعظم کی ریاض پر حوثی حملے کی مذمت، سعودی خودمختاری کے تحفظ کا عزم

وزیراعظم نے کہا کہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کرنے والے حملے فوری بند کیے جائیں۔

شہباز شریف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری،علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے عزم پر قائم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان برادرانہ تعلقات اور دیرینہ وابستگی مزید مستحکم ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان ریاض میں شاہ خالد ائیرپورٹ پر حوثیوں کے تازہ ترین دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہے، شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا دہشت گردی کی ایک گھناؤنی کارروائی ہے۔

وزارت خارجہ سے جاری بیان کے مطابق یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور علاقائی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے، حملے کے نتیجے میں جانی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ہماری دعائیں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں، حوثیوں کی جانب سے شہری آبادی اور انفراسٹرکچر کو مسلسل نشانہ بنانا مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق عالمی برادری کو ایسے اقدامات کی غیر مشروط مذمت کرنی چاہئے، پاکستان سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ  سعودی عرب کے اپنی سرزمین کے اور عوام کے تحفظ کی دفاع کا حق رکھتا ہے، پاکستان حوثی ملیشیا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے دہشت گرد حملے فوری طور پر بند کرے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کے لیے اپنے پختہ عزم کے ساتھ مملکت کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

یمن کی حوثی ملیشیا نے ریاض کے کنگ خالد ایئرپورٹ اور دمام ایئرپورٹ پر حملہ کیا ہے جس میں کم از کم 12 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سعودی اتحادی افواج نے ایک ہی ہفتے میں ریاض ایئرپورٹ پر تیسرے حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے فوری سخت کارروائی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے