اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ہانس گرونڈبرگ نے خبردار کیا ہے کہ یمن دوبارہ مکمل جنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں لڑائی کئی محاذوں تک پھیل گئی ہے۔انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ سفارتی کوششیں تیز کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ضروری ہے۔
گرونڈبرگ کے مطابق تعز، لحج، مأرب، الجوف اور حجہ سمیت مختلف علاقوں میں جھڑپیں تیز ہو گئی ہیں۔ ان علاقوں میں لڑائی نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ان کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی کے بعد یمنی حکومت نے بھی بڑے پیمانے پر جوابی فوجی کارروائی شروع کی ہے۔ باب المندب کے اطراف میں بھی شدید جھڑپیں جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کے ایلچی نے واضح کیا کہ میدانِ جنگ میں کامیابی تنازع کا مستقل حل نہیں دے سکتی۔ ان کے مطابق جنگ کے خاتمے کے لیے سیاسی مذاکرات ضروری ہیں۔
گرونڈبرگ نے تمام فریقین سے فوری طور پر کشیدگی کم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے جنگ بندی کی جانب پیش رفت پر بھی زور دیا۔اقوام متحدہ کے ایلچی نے بحیرۂ احمر اور خلیج عدن میں بحری آمدورفت محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سرحد پار حملے روکنے پر بھی زور دیا۔
