پارلیمنٹ کی داخلہ کمیٹی نے کیس پر غور کے لیے 29 اکتوبر کو اجلاس طلب کرلیا ہے، اجلاس میں ایس ایس پی انویسٹی گیشن، ایڈیشنل آئی جی، آر پی او اور مقتولہ کے اہلخانہ کو طلب کیا گیا ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کے چہرے، گردن، بازوؤں اور ہاتھوں پر زخموں کے نشانات تھے، جبکہ ان کی گردن ٹوٹی ہوئی اور ہونٹ پھٹے ہوئے تھے۔
حنا جاوید کو 20 اگست کو گھر میں تشدد کے بعد قتل کیا گیا تھا، مقتولہ کے اہلخانہ نے پولیس تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی شفاف تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔


