سابق امریکی صدر بارک اوباما نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانیے کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے ایران کے ایٹمی پروگرام کو جنگ کی وجہ قرار دینے پر سوالات اٹھائے۔
اوباما نے کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار موجود نہیں تھے۔ ان کے مطابق، ایران کے ایٹمی پروگرام کو جنگ کی اصل وجہ بتایا گیا۔
بارک اوباما نے امریکی ریاست اوہائیو میں ایک ریلی سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صدر نے متعدد غلط فیصلے کیے ہیں۔
اوباما کے مطابق، ان میں سب سے اہم فیصلہ غیر ضروری جنگ شروع کرنا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جنگ کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا۔
سابق امریکی صدر نے ٹرمپ انتظامیہ کو بدترین اور نااہل قرار دیا۔ انہوں نے جنگ کے نتائج پر بھی تنقید کی۔
اوباما نے کہا کہ ایران پر فتح کے اعلان کے سات ماہ بعد حملے ہوئے۔ ان کے مطابق، امریکی اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان واقعات میں امریکی شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اوباما کے بقول، امریکی میزائلوں کے ذخائر بھی ختم ہو چکے ہیں۔
بارک اوباما نے کہا کہ ایران کو اب آبنائے ہرمز پر ویٹو پاور حاصل ہے۔ ان کے مطابق، اسی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
سابق امریکی صدر نے جنگ کے معاشی اثرات پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ایران جنگ ہے۔


