سعودی عرب نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاقوں کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی حکام نے ان میزائلوں کو یمن کے حوثیوں سے منسوب کیا ہے۔
سعودی حکام کے مطابق، میزائلوں کو فضا میں تباہ کیا گیا۔ ان کا ملبہ مکہ مکرمہ سمیت مختلف مقامات پر گرا۔
سعودی حکام کے مطابق، ملبہ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام سے تقریباً 20 کلومیٹر دور وادی المغمس میں گرا۔ طائف، جدہ اور رابغ کے بعض علاقوں میں بھی ملبہ گرنے کی اطلاع دی گئی۔
سعودی سول ڈیفنس نے ہفتے کی شب سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر بیان جاری کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ شہری دفاع نے ملبے سے نمٹنے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔
محکمے کے مطابق، ملبہ طائف کی وادی جلیل میں بھی گرا۔ جدہ کے النزہ محلے اور رابغ کے مستورہ مرکز میں بھی ملبہ گرنے کی اطلاع دی گئی۔
سعودی حکام نے میزائل حملوں کا الزام حوثی ملیشیا پر عائد کیا ہے۔ تاہم، حوثیوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کے الزامات مسترد کر دیے ہیں۔
حوثیوں نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اس طرح واقعے سے متعلق سعودی حکام اور حوثیوں کے مؤقف میں اختلاف سامنے آیا ہے۔
سعودی حکام نے تاحال ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ فراہم کردہ معلومات میں حملوں کے اصل ہدف کی بھی وضاحت نہیں کی گئی۔
واقعے سے متعلق دونوں فریقوں کے بیانات میں تضاد موجود ہے۔ اس لیے حملوں کے ہدف اور ممکنہ نقصانات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔


