دو سینئر ایرانی حکام نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ تہران امریکی سفارت کاروں اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ رپورٹ میں ان حکام کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔
یہ انکشاف امریکی انٹیلی جنس کے ایک انتباہ کے چند روز بعد سامنے آیا ہے۔ اس انتباہ میں ایران کی جانب سے امریکی شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی قومی انٹیلی جنس کے سربراہ جے کلیٹن نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو ایک میمو بھیجا تھا۔ اس میں ایران کی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی گئی۔
میمو میں کہا گیا کہ ایران نے مشرقِ وسطیٰ اور اس سے باہر امریکیوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔
نیویارک ٹائمز سے گفتگو کرنے والے ایرانی حکام میں سے ایک کا تعلق اسلامی انقلابی گارڈز کور (IRGC) سے بتایا گیا ہے۔ اس اہلکار نے امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کو ’’منصفانہ کھیل‘‘ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق، اس نے امریکہ اور اسرائیل کے ہاتھوں ایرانی اہلکاروں کی ہلاکتوں کو اپنے مؤقف کی بنیاد بنایا۔ تاہم، یہ بیان متعلقہ ایرانی اہلکار کا مؤقف ہے۔
دوسری جانب، ایک امریکی اہلکار نے اخبار کو بتایا کہ تہران کے امریکہ میں ایسے کارکنوں کی موجودگی کے شواہد ہیں جو صرف ایرانی شہری نہیں ہیں۔ رپورٹ میں ان افراد کی شناخت یا سرگرمیوں کی مزید تفصیلات نہیں دی گئیں۔
یہ انٹیلی جنس انتباہ ایسے وقت سامنے آیا جب امریکی محکمہ خارجہ نے سفارتی عملے میں کمی کا اعلان کیا۔ اس اقدام کے تحت اردن، لبنان، قطر اور متحدہ عرب امارات میں امریکی سفارت خانوں کے عملے کی تعداد کم کی جا رہی ہے۔
اس سے قبل ہفتے کے آغاز میں واشنگٹن نے سعودی عرب سے غیر ضروری سفارتی عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو روانگی کا حکم دیا تھا۔ یہ فیصلہ ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد کیا گیا۔
ان اطلاعات کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی سفارتی عملے کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ تاہم، فراہم کردہ رپورٹ میں ایران کی جانب سے کسی مخصوص حملے، مقام یا وقت کی تصدیق نہیں کی گئی۔


