9 اپریل 1977ء: لاہور میں خواتین کا احتجاج
گیارہ بجے ہی عورتیں چیئرنگ کراس پر جمع ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ ایک طرف حشمت بی بی کی زبان سے نعرے بلند ہو رہے تھے۔ دوسری طرف بھٹو کے اقتدار کا سورج غروب ہو رہا تھا۔
وہ اپنے سات سالہ پوتے کو بھی ساتھ لے آئی تھی۔ یہ 9 اپریل 1977ء کا دن تھا۔ جیسے جیسے گرمی بڑھ رہی تھی، ویسے ہی ہجوم بھی بڑھتا جا رہا تھا۔
چاچی حشمتے نے اپنے کرتے کی جیب سے بیڑی نکالی اور اسے سلگایا۔ پھر پوتے کو انگلی سے لگایا اور پنجاب اسمبلی کی طرف بڑھ گئی۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ آج کیا ہونے والا ہے۔
وہ علاقے کی دیگر خواتین کے ساتھ احتجاج کے لیے نکلی تھی۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے چیئرنگ کراس نہیں بلکہ انارکلی جا رہی ہو۔
قیصرہ ظہور الٰہی کی قیادت اور چیئرنگ کراس کا منظر
مظاہرین کی قیادت چوہدری ظہور الٰہی کی صاحبزادی قیصرہ ظہور الٰہی نے سنبھال رکھی تھی۔ بعد میں وہ چوہدری پرویز الٰہی کی اہلیہ بنیں۔
ادھر شاہ دین بلڈنگ کی چھت پر کھڑا چیمہ یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ اسی دوران ایک پولیس والے نے اس کے کان میں ایک خبر ڈالی۔
خبر یہ تھی کہ قومی اتحاد کے رہنما پیر آف پگارا سید مردان علی شاہ اچانک چیئرنگ کراس پر پہنچیں گے۔ وہ لاہور کے اس بڑے احتجاجی جلوس کی قیادت کریں گے۔
اس وقت شاہراہ قائداعظم کی ٹریفک معطل ہو چکی تھی۔ ابھی کچھ نہیں ہوا تھا۔ تاہم لاہور کی فضا نہ جانے کیوں سوگوار تھی۔ سورج کی کرنیں ہواؤں سے سرگوشی کر رہی تھیں کہ کچھ ہونے والا ہے۔
نتھ فورس کا قیام اور خواتین پر لاٹھی چارج
ولولے اور جوش سے بھرپور احتجاجی خواتین کا ریلا پنجاب اسمبلی کی طرف بڑھنے والا تھا۔ اسی وقت ان کا راستہ کچھ ایسی پولیس خواتین نے روک لیا جن کا حلیہ عام پولیس اہلکاروں سے مختلف تھا۔
انہوں نے وردی تو پولیس کی پہن رکھی تھی۔ مگر وضع قطع، رنگ ڈھنگ اور چال ڈھال سے وہ پولیس والی نہیں لگ رہی تھیں۔
ان سب کے ناک میں نتھلیاں تھیں۔ چہروں پر رنگ و روغن بھی تھا۔ ان کے چہروں پر شادابی اور رعنائی نمایاں تھی۔ انہوں نے حقیقی پولیس والیوں کے درمیان ایک رونق لگا رکھی تھی۔ اس طرح ماحول بھی معطر ہو رہا تھا۔
یہ دراصل ہیرا منڈی کی طوائفوں پر مشتمل ایک خصوصی فورس تھی۔ اسے اس دن احتجاجی خواتین کی اگلی صفوں میں تعینات کیا گیا تھا۔ اسی فورس کو ’’نتھ فورس‘‘ کا نام دیا گیا۔
احتجاجی خواتین نے نتھ فورس کی پہلی صف کو چیر کر آگے بڑھنے کی پوری کوشش کی۔ ان کا رخ پنجاب اسمبلی کی طرف تھا۔ جب خواتین قابو سے باہر ہونے لگیں تو نتھ فورس نے لاٹھیاں نکال لیں۔
اس کے بعد مظاہرین پر لاٹھی چارج شروع کر دیا گیا۔ کچھ دیر کے لیے بھگدڑ مچی۔ تاہم احتجاجی خواتین نے اس تشدد کو خاطر میں نہ لایا۔
جب لاٹھی چارج بھی کارگر ثابت نہ ہوا تو آنسو گیس کے گولے برسائے جانے لگے۔ نتیجتاً چیئرنگ کراس پر دھوئیں کے بادل چھا گئے۔
شاہ دین بلڈنگ میں خواتین کی پناہ
چیمہ شاہ دین بلڈنگ کی چھت پر کھڑا یہ تمام مناظر دیکھ رہا تھا۔ وہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی کارروائی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔
اب فضا زہر آلود ہو چکی تھی۔ سانس لینا بھی دشوار ہو گیا تھا۔ نتھ فورس کے مسلسل حملوں کے بعد خواتین نے بھاگنا شروع کر دیا۔
جس خاتون کو جہاں راستہ ملا، اس نے ادھر ہی دوڑ لگا دی۔ بہت سی خواتین نے شاہ دین بلڈنگ کا رخ کیا۔ جبکہ کچھ خواتین چیئرنگ کراس کے عین درمیان بے سدھ پڑی تھیں۔ ان کے جسم خون سے لت پت تھے۔
ان خواتین میں بزرگوں کی بھی خاصی تعداد شامل تھی۔ گرمی مزید بڑھ چکی تھی۔ قریب کہیں پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔
ایک طرف پیاس کی شدت تھی۔ دوسری طرف آنسو گیس کے اثرات سے لوگوں کی حالت خراب ہو رہی تھی۔
چاچی حشمتے اور اس کے معصوم پوتے پر تشدد
اسی دوران پیپل کے ایک طرف چاچی حشمتے بے ہوش پڑی تھی۔ اس کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کے سفید بال لہو سے سرخ ہو چکے تھے۔
اس کا پوتا اس کے سینے پر سر رکھ کر بلک رہا تھا۔ اتنے میں نتھ فورس کی دو اہلکار دوڑتی ہوئی وہاں پہنچیں۔
انہوں نے ننھے پوتے پر بھی لاٹھیاں برسانا شروع کر دیں۔ اسی دوران چیمہ شاہ دین بلڈنگ کی چھت سے نیچے اترا۔ وہ فوراً مائی حشمتے کے پوتے کی طرف لپکا۔
اس نے آن کی آن میں بچے کو اٹھایا اور شاہ دین بلڈنگ میں داخل ہو گیا۔
دوسری طرف جن خواتین کی گودوں میں شیر خوار بچے تھے، انہوں نے لاٹھی چارج کے آغاز ہی میں شاہ دین بلڈنگ میں پناہ لے لی تھی۔
نوابزادہ نصراللہ خان پر حملے کی کوشش
ابھی تشدد کا یہ سلسلہ جاری تھا۔ اسی دوران ایک خبر پھیل گئی۔ بتایا گیا کہ پیر آف پگارا تو نہیں آئے، البتہ پاکستان قومی اتحاد کے بزرگ رہنما اچانک نمودار ہو گئے ہیں۔
یہ بزرگ رہنما پاکستان جمہوری پارٹی کے سربراہ اور بابائے جمہوریت نوابزادہ نصراللہ خان تھے۔
وہ شاہ دین بلڈنگ کے سامنے واقع فٹ پاتھ پر پہنچے تھے۔ ابھی وہ لوگوں کو اپنے گرد جمع بھی نہیں کر پائے تھے کہ نتھ فورس نے ان پر لاٹھیاں تان لیں۔
نوابزادہ صاحب پر بے رحمانہ تشدد شروع ہونے ہی والا تھا۔ تاہم پاکستان قومی اتحاد کے کئی کارکنان پولیس کا گھیرا توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔
انہوں نے بزرگ سیاستدان کو بچایا اور شاہ دین بلڈنگ میں لے گئے۔
انارکلی چوک اور ٹولنٹن مارکیٹ میں فائرنگ کی خبر
ادھر چیئرنگ کراس کا محاذ ابھی گرم تھا۔ اسی دوران خبر پھیل گئی کہ ٹولنٹن مارکیٹ کے قریب انارکلی چوک میں ایف ایس ایف نے فائرنگ کر دی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اس فائرنگ سے کافی جانی نقصان ہوا تھا۔
پاکستان جمہوری پارٹی کے ایک کارکن نے چیمے کو بتایا کہ وہ باہر جا کر صورت حال دیکھتا ہے۔ اس نے کہا کہ واپس آ کر نواب صاحب کو بھی اطلاع دے گا۔
یہ کہہ کر وہ باہر کی طرف دوڑ لگا گیا۔ مگر وہ واپس نہ آیا۔ اس کے بجائے ٹولنٹن مارکیٹ سے اس کی لاش واپس آئی۔
لاہور میں احتجاج اور بھٹو دور کے آخری ایام
لاہور کی سڑکوں پر آج جو غم و الم کی داستانیں لکھی جا رہی تھیں، وہ بھٹو دور کے جبر و استبداد کو حقیقت کا روپ دے رہی تھیں۔
یہ واقعات ان کے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک رہے تھے۔
خوشیوں اور رونقوں سے بھرپور باغوں کا شہر غم و الم میں ڈوب چکا تھا۔ ہوائیں جیسے رک سی گئی تھیں۔ سورج کی کرنیں قہر ڈھا رہی تھیں۔ پرندوں نے بھی چہچہانا چھوڑ دیا تھا۔
ہر طرف سے شہادتوں کی خبریں آ رہی تھیں۔ شام تک 16 شہادتیں ہو چکی تھیں۔
مسلم مسجد کا سانحہ اور 30 مارچ 1977ء کے واقعات
اس واقعے سے صرف دس روز قبل، یعنی 30 مارچ کو مسلم مسجد کا سانحہ پیش آیا تھا۔
وہاں ایف ایس ایف نے مسجد کے اندر اور باہر خون کی ہولی کھیلی تھی۔ اس واقعے کے بعد مسجد کے تالاب کا پانی سرخ ہو گیا تھا۔ دیواروں کی اینٹوں پر خون کے نشانات عوام کی بے بسی کا ماتم کر رہے تھے۔
مسلم مسجد پر ایف ایس ایف کا تشدد اور 9 افراد کا قتلِ عام ایک بڑا سانحہ تھا۔
اس کے بعد چیئرنگ کراس پر نتھ فورس کا مبینہ بہیمانہ تشدد اور انارکلی چوک میں 16 افراد کا قتلِ عام بھی سامنے آیا۔
ان واقعات نے پورے ملک میں غم و غصے کی فضا پیدا کر دی تھی۔ یوں بھٹو حکومت کے خلاف احتجاج میں مزید شدت آ گئی۔
ان واقعات کے بعد بھٹو کا جانا ٹھہر گیا تھا۔

